Transliteration: (Innaa natma'u ai yaghfira lanaa Rabbunaa khataa yaanaaa an kunnaaa awwalal mu'mineen (section 3))
{قَالُوْا: وہ بولے۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ فرعون کی دھمکی سن کر ان جادو گروں نے کہا’’اللہ تعالٰی کی خاطر جان دینے میں کچھ نقصان نہیں خواہ دنیا میں کچھ بھی پیش آئے کیونکہ ہم اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف ایمان کے ساتھ پلٹنے والے ہیں اور ہمیں اللہ تعالٰی سے رحمت کی امید ہے اور ہمیں اس بات کا لالچ ہے کہ ہمارا رب عَزَّوَجَلَّ اس بنا پر ہماری خطائیں بخش دے کہ ہم فرعون کی رعایا میں سے یا اس مجمع کے حاضرین میں سے سب سے پہلے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر ایمان لانے والے ہیں۔(خازن، الشعراء، تحت الآیۃ: ۵۰-۵۱، ۳ / ۳۸۶-۳۸۷، مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۵۰-۵۱، ص۸۲۰، ملتقطاً)
اس واقعہ کے بعد حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کئی سال تک وہاں ٹھہرے رہے اور ان لوگوں کو حق کی دعوت دیتے رہے، لیکن اُن کی سرکشی بڑھتی گئی۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الشعراء آیت 51 تفسیر