Transliteration: (Qaala kallaaa inna ma'iya Rabbee sa yahdeen)
{فَاَتْبَعُوْهُمْ: تو فرعونیوں نے ان کا تعاقب کیا۔} اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ جب سورج طلوع ہو اتو فرعونیوں نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور بنی اسرائیل کا تعاقب کیا،پھر جب دونوں گروہوں کا آمنا سامنا ہوا اور ان میں سے ہر ایک نے دوسرے کو دیکھا تو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ساتھیوں نے کہا: بیشک اب وہ ہم پر قابو پالیں گے، نہ ہم ان کا مقابلہ کرنے کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ ہمارے پاس بھاگنے کی کوئی جگہ ہے کیونکہ آگے دریا ہے۔حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو چونکہ اللہ تعالٰی کے وعدے پر پورا بھروسہ تھا ا س لئے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے بنی اسرائیل سے فرمایا کہ اللہ تعالٰی سے براگمان نہ رکھو، وہ لوگ ہر گز تمہیں نہ پا سکیں گے بیشک میرے ساتھ میرا رب عَزَّوَجَلَّ ہے اور وہ ابھی مجھے بچنے کاراستہ دکھا دے گا۔( روح ا لبیان، الشعراء، تحت الآیۃ: ۶۰-۶۲، ۶ / ۲۷۸، مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۶۰-۶۲، ص۸۲۱، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الشعراء آیت 62 تفسیر