قرآن - 26:63 سورہ الشعراء ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

63
فَأَوۡحَيۡنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰٓ أَنِ ٱضۡرِب بِّعَصَاكَ ٱلۡبَحۡرَۖ فَٱنفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٖ كَٱلطَّوۡدِ ٱلۡعَظِيمِ

Transliteration: (Fa awhainaaa ilaa Moosaaa anidrib bi'asaakal bahra fanfalaqa fakaana kullu firqin kattawdil 'azeem)

ترجمہ: کنزالایمان - فَاَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْبَحْرَؕ-فَانْفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِیْمِ(63)وَ اَزْلَفْنَا ثَمَّ الْاٰخَرِیْنَ(64) || تو ہم نے موسیٰ کو وحی فرمائی کہ دریا پر اپنا عصا مار تو جبھی دریا پھٹ گیا تو ہر حصہ ہوگیا جیسے بڑا پہاڑ۔ اور وہاں قریب لائے ہم دوسروں کو۔ ترجمہ: کنزالعرفان تو ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر اپنا عصا مارو تو اچانک وہ دریا پھٹ گیاتو ہر راستہ بڑے پہاڑ جیسا ہوگیا۔ اور وہاں ہم دوسروں کوقریب لے آئے۔ || تو ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر اپنا عصا مارو تو اچانک وہ دریا پھٹ گیاتو ہر راستہ بڑے پہاڑ جیسا ہوگیا۔ اور وہاں ہم دوسروں کوقریب لے آئے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الشعراء آیت 63 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{فَاَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰى: تو ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی۔} اللہ تعالٰی نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف وحی بھیجی کہ اپنا عصا دریا پر مارو، چنانچہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے دریا پر عصا مارا تو اچانک وہ دریابارہ راستوں  میں  تقسیم ہوکر پھٹ گیا، ہر راستہ بڑے پہاڑ جیسا ہوگیا اور ان کے درمیان خشک راستے بن گئے جن پر چل کر بنی اسرائیل دریا سے پار ہو گئے۔(جلالین، الشعراء، تحت الآیۃ: ۶۳، ص۳۱۲)

{وَ اَزْلَفْنَا: اور ہم قریب لے آئے۔} یعنی ہم فرعون اور ا س کے لشکر کو بنی اسرائیل کے قریب لے آئے، یہاں  تک کہ وہ بنی اسرائیل کے راستوں  میں  چل پڑے جواُن کے لئے دریا میں  اللہ تعالٰی کی قدرت سے پیدا ہوئے تھے۔( روح ا لبیان، الشعراء، تحت الآیۃ: ۶۴، ۶ / ۲۷۹-۲۸۰)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now