Transliteration: (Fa awhainaaa ilaa Moosaaa anidrib bi'asaakal bahra fanfalaqa fakaana kullu firqin kattawdil 'azeem)
{فَاَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰى: تو ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی۔} اللہ تعالٰی نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف وحی بھیجی کہ اپنا عصا دریا پر مارو، چنانچہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے دریا پر عصا مارا تو اچانک وہ دریابارہ راستوں میں تقسیم ہوکر پھٹ گیا، ہر راستہ بڑے پہاڑ جیسا ہوگیا اور ان کے درمیان خشک راستے بن گئے جن پر چل کر بنی اسرائیل دریا سے پار ہو گئے۔(جلالین، الشعراء، تحت الآیۃ: ۶۳، ص۳۱۲)
{وَ اَزْلَفْنَا: اور ہم قریب لے آئے۔} یعنی ہم فرعون اور ا س کے لشکر کو بنی اسرائیل کے قریب لے آئے، یہاں تک کہ وہ بنی اسرائیل کے راستوں میں چل پڑے جواُن کے لئے دریا میں اللہ تعالٰی کی قدرت سے پیدا ہوئے تھے۔( روح ا لبیان، الشعراء، تحت الآیۃ: ۶۴، ۶ / ۲۷۹-۲۸۰)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الشعراء آیت 63 تفسیر