Transliteration: (Inna fee zaalika la Aayaah; wa maa kaana aksaru hu mu'mineen)
{اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً: بیشک اس میں ضرور نشانی ہے۔} یعنی دریا میں جو کچھ واقع ہوا اس میں اللہ تعالٰی کی قدرت پر ضرور نشانی ہے اور یہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا معجزہ ہے۔( خازن، الشعراء، تحت الآیۃ: ۶۷، ۳ / ۳۸۸)
{وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ: اور ان میں اکثر مسلمان نہ تھے۔} یعنی فرعونیوں میں سے اکثر مسلمان نہ تھے۔ مصر والوں میں سے صرف تین حضرات ایمان لائے۔ (1)فرعون کی بیوی حضرت آسیہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُا۔ (2)حِزْقِیْل۔ انہیں آلِ فرعون کا مؤمن کہتے ہیں ،یہ اپنا ایمان چھپائے رہتے تھے اور فرعون کے چچا زاد تھے۔ (3)مریم۔ یہ ایک بوڑھی خاتون تھیں ، انہوں نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے جنت کا وعدہ لے کر دریائے نیل میں حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قبر ِانور کا محلِ وقوع بتایا تھا۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اللہ تعالٰی کے حکم سے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا تابوت شریف دریا سے نکال کر ملک ِشام لے گئے تھے۔( خازن، الشعراء، تحت الآیۃ: ۶۷، ۳ / ۳۸۸، صاوی، الشعراء، تحت الآیۃ: ۶۷، ۴ / ۱۴۶۱، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الشعراء آیت 67 تفسیر