قرآن - 42:31 سورہ الشورى ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

31
وَمَآ أَنتُم بِمُعۡجِزِينَ فِي ٱلۡأَرۡضِۖ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ مِن وَلِيّٖ وَلَا نَصِيرٖ

Transliteration: (Wa maaa antum bimu'jizeena fil ardi wa maa lakum min doonil laahi minw wa liyyinw wa laa naseer)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِۚۖ-وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ(31) || اور تم زمین میں قابو سے نہیں نکل سکتے اور نہ اللہ کے مقابل تمہارا کوئی دوست نہ مددگار۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور تم زمین میں (اللہ کو) بے بس نہیں کرسکتے اور نہ اللہ کے مقابلے میں تمہارا کوئی دوست ہے اورنہ مددگار۔ || اور تم زمین میں (اللہ کو) بے بس نہیں کرسکتے اور نہ اللہ کے مقابلے میں تمہارا کوئی دوست ہے اورنہ مددگار۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الشورى آیت 31 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ: اور تم زمین میں(اللہ کو) بے بس نہیں  کرسکتے۔} یعنی جو مصیبتیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے نصیب میں  لکھ دی ہیں  تم ان سے کہیں  بھاگ نہیں  سکتے اور نہ ہی ان سے بچ سکتے ہو اور نہ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں  تمہارا کوئی دوست ہے اورنہ مددگار کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مرضی کے خلاف تمہیں مصیبت اور تکلیف سے بچاسکے۔(مدارک، الشوری، تحت الآیۃ: ۳۱، ص۱۰۹۰)

یاد رہے کہ اس آیت میں  دعائیں  داخل نہیں  کیونکہ دعا اللہ تعالیٰ کی مرضی کے خلاف کبھی کچھ نہیں  کرتی بلکہ اس کی مرضی کے موافق کرتی ہے اوردعا کے نتیجے میں  خود خدا وند ِ قدوس ہی رحمت فرماتا ہے ،یونہی اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ بندوں  کا معاملہ ہے کہ ان کی دعاؤں  سے اللہ تعالیٰ تقدیر بدل دیتا اور بلائیں  ٹال دیتا ہے۔حضرت سلمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’تقدیر کو دعا ہی بدل سکتی ہے اور نیکی ہی سے عمر بڑھتی ہے۔( ترمذی، کتاب القدر، باب ما جاء لا یردّ القدر الاّ الدعاء، ۴ / ۵۴، الحدیث: ۲۱۴۶)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now