Transliteration: (Wa min Aayaatihil ja waarifil bahri kal a'lam)
{وَ مِنْ اٰیٰتِهِ: اور اس کی
نشانیوں سے ہیں ۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ سمندر میں چلنے والی پہاڑوں جیسی
بڑی بڑی کشتیاں اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت کے دلائل اور اس کی قدرت، عظمت اور حکمت کی
نشانیوں میں سے ہیں کہ بادبانی کشتیاں ہوا کے ذریعے چلتی اور رکتی ہیں اور ان
ہواؤں کو چلانے اور روکنے پر اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی قدرت
نہیں رکھتا اور یہ قدرت والے معبود کے
وجود کی دلیل ہے،اور اس کی دوسری دلیل یہ ہے کہ یہ کشتیاں انتہائی وزنی ہوتی ہیں لیکن
اپنے بھر پور وزن کے باوجود ڈوبتی نہیں بلکہ پانی کی سطح پر تیرتی جاتی ہیں
۔ان کشتیوں کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے اپنے بندوں پر عظیم انعامات کی معرفت بھی
حاصل ہوتی ہے،جیسے ان کشتیوں کے ذریعے زمین کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک سامان
کی نقل و حمل سے تجارت کے عظیم فوائد حاصل ہوتے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا انعام ہے۔(روح البیان، الشوری، تحت الآیۃ: ۳۲، ۸ / ۳۲۴، تفسیرکبیر، الشوری، تحت
الآیۃ: ۳۲، ۹ / ۶۰۲، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الشورى آیت 32 تفسیر