Transliteration: (Innamas sabeelu 'alal lazeena yazlimoonan naasa wa yabghoona fil ardi bighairil haqq; ulaaa'ika lahum 'azaabun aleem)
{اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَى الَّذِیْنَ یَظْلِمُوْنَ النَّاسَ: گرفت صرف ان لوگوں پر ہے جولوگوں پر ظلم کرتے ہیں ۔} یعنی گرفت صرف ان لوگوں پر ہے جو ابتداء ً لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور تکبُّر اور گناہوں کا اِرتکاب کرکے اور فساد برپا کر کے زمین میں ناحق سرکشی پھیلاتے ہیں ،ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔(مدارک، الشوری، تحت الآیۃ: ۴۲، ص۱۰۹۱، خازن، الشوری، تحت الآیۃ: ۴۲، ۴ / ۹۹، ملتقطاً)
ظلم کی اَقسام:
یاد رہے کہ ظلم کی دو قسمیں ہیں (1) شخصی ظلم ۔(2) قومی ظلم۔آیت کے ا س حصے ’’یَظْلِمُوْنَ النَّاسَ‘‘ میں شخصی ظلم مراد ہے جیسے کسی کو مارنا، گالی دینا، مال مار لینا، اور آیت کے اس حصے ’’وَ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ‘‘ میں قومی ظلم مراد ہے، جیسے ملک و قوم سے غداری اوربادشاہِ اسلام سے بغاوت وغیرہ۔دونوں قسم کے ظالموں سے بدلہ لینا چاہیے ، لیکن پہلے ظالم کو معافی دے دینا حسنِ اَخلاق ہے اوردوسرے ظالم کو بلاوجہ معافی دینا سخت ظلم ہے،اسے عبرتناک سزا دینی چاہئے تاکہ آئندہ کوئی ایسا نہ کرے۔یہ آیتِ کریمہ ملکی انتظامات، حُکّام کے فیصلوں اور معاملات کی جامع آیت ہے۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الشورى آیت 42 تفسیر