قرآن - 64:11 سورہ التغابن ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

11
مَآ أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ إِلَّا بِإِذۡنِ ٱللَّهِۗ وَمَن يُؤۡمِنۢ بِٱللَّهِ يَهۡدِ قَلۡبَهُۥۚ وَٱللَّهُ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٞ

Transliteration: (Maaa asaaba mim musee batin illaa bi-iznil laah; wa many yu'mim billaahi yahdi qalbah; wallaahu bikulli shai'in Aleem)

ترجمہ: کنزالایمان - مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِؕ-وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ یَهْدِ قَلْبَهٗؕ-وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ(11) || کوئی مصیبت نہیں پہنچتی مگر اللہ کے حکم سے اور جو اللہ پر ایمان لائے اللہ اس کے دل کو ہدایت فرمادے گا اور اللہ سب کچھ جانتا ہے۔ ترجمہ: کنزالعرفان ہر مصیبت اللہ کے حکم سے ہی پہنچتی ہے اور جو اللہ پر ایمان لائے اللہ اس کے دل کو ہدایت دیدے گا اور اللہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔ || ہر مصیبت اللہ کے حکم سے ہی پہنچتی ہے اور جو اللہ پر ایمان لائے اللہ اس کے دل کو ہدایت دیدے گا اور اللہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ التغابن آیت 11 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ: ہر مصیبت اللّٰہ کے حکم سے ہی پہنچتی ہے۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ موت کی، مرض کی اورمال کے نقصان وغیرہ کی، الغرض ہر مصیبت اللّٰہ تعالیٰ کے حکم سے ہی پہنچتی ہے اور جو اللّٰہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور جانے کہ جو کچھ ہوتا ہے اللّٰہ تعالیٰ کی مَشِیَّت اور اس کے ارادے سے ہوتا ہے اور مصیبت کے وقت اِنَّا ِللّٰہِ وَ اِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنْ پڑھے اور اللّٰہ تعالیٰ کی عطا پر شکر اور بلا پر صبر کرے تو اللّٰہ تعالیٰ اس کے دل کو ہدایت دیدے گا کہ وہ اور زیادہ نیکیوں  اور طاعتوں  میں  مشغول ہواور اللّٰہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے۔( خزائن العرفان، التغابن، تحت الآیۃ: ۱۱، ص۱۰۳۰، ملخصاً)

            خیال رہے کہ بعض مصیبتیں  ہمارے گناہوں  کی شامت سے آتی ہیں  مگر آتی اللّٰہ تعالیٰ کے حکم سے ہیں ، لہٰذا یہ آیت سورۂ شوریٰ کی اس آیت:

’’وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ‘‘(شوریٰ:۳۰)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور تمہیں  جو مصیبت پہنچی وہ تمہارے ہاتھوں  کے کمائے ہوئے اعمال کی وجہ سے ہے۔

            کے خلاف نہیں ۔نیز یہ بھی خیال رہے کہ دنیا کی مصیبتیں  مومن کے لئے بہت مرتبہ گناہ کا کفارہ بنتی ہیں ، یا درجات کی بلندی کا سبب ہوتی ہیں  جبکہ کفار کے لئے عذاب ہیں ، لہٰذا زیرِ تفسیر آیت بالکل صاف ہے،اس پر کسی طرح کا کوئی اعتراض نہیں  کیا جا سکتا۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now