Transliteration: (Wa izaa maaa unzilat Sooratun nazara ba'duhum ilaa ba'din hal yaraakum min ahadin thumman sarafoo; sarafal laahu quloobahum bi annahum qawmul laa yafqahoon)
{وَ اِذَا مَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ:اور جب کوئی سورت نازل کی جاتی ہے۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب کوئی ایسی سورت نازل کی جاتی ہے کہ جس میں منافقین کو زَجر وتَوبیخ اور ان کے نفاق کا بیان ہو تو وہ وہاں سے بھاگنے کیلئے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگتے ہیں اور آنکھوں سے نکل بھاگنے کے اشارے کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جب تم اپنی نشست گاہ سے اٹھو تو اس وقت مومنوں میں سے کوئی تمہیں دیکھ تو نہیں رہا ،اگر دیکھ رہا ہو تو بیٹھ گئے ورنہ نکل جاتے ہیں۔ پھر اس نازل ہونے والی سورت کے سبب ایمان سے اپنے کفر کی طرف پلٹ جاتے ہیں ، اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان کے دل ایمان سے پلٹ دیئے ہیں کیونکہ یہ قوم سمجھتی ہی نہیں اور اپنے نفع و نقصان کو نہیں سوچتی۔ (خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۲۷، ۲ / ۲۹۸، مدارک، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۲۷، ص۴۶۰، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ التوبة آیت 127 تفسیر