قرآن - 43:17 سورہ الزخرف ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

17
وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُم بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحۡمَٰنِ مَثَلٗا ظَلَّ وَجۡهُهُۥ مُسۡوَدّٗا وَهُوَ كَظِيمٌ

Transliteration: (Wa izaa bushshira ahaduhum bimaa daraba lir Rahmaani masalan zalla wajhuhoo muswaddanw wa huwa kazeem)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمٰنِ مَثَلًا ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌ(17) || اور جب اُن میں کسی کو خوشخبری دی جائے اُس چیز کی جس کا وصف رحمٰن کے لیے بتاچکا ہے تو دن بھر اس کا منہ کالا رہے اور غم کھایا کرے۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور جب ان میں کسی کو اس چیز کی خوشخبری سنائی جائے جس کے ساتھ اس نے رحمٰن کو متصف کیا ہے تو دن بھر اس کا منہ کالا رہتا ہے اور وہ غم و غصے میں بھرا رہتا ہے۔ || اور جب ان میں کسی کو اس چیز کی خوشخبری سنائی جائے جس کے ساتھ اس نے رحمٰن کو متصف کیا ہے تو دن بھر اس کا منہ کالا رہتا ہے اور وہ غم و غصے میں بھرا رہتا ہے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الزخرف آیت 17 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{ وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمٰنِ مَثَلًا: اور جب ان میں  کسی کو اس چیز کی خوشخبری سنائی جائے جس کے ساتھ اس نے رحمٰن کو متصف کیا ہے۔} یعنی کفار جو کہ اولاد سے پاک رب تعالیٰ کے لئے بیٹیا ں  ثابت کر رہے ہیں ، بیٹیوں  سے نفرت میں  ان کا اپنا حال یہ ہے کہ جب ان میں  سے کسی کو خوشخبری سنائی جائے کہ تیرے گھرمیں  بیٹی پیدا ہوئی ہے تو دن بھر اس کا منہ کالا رہتا ہے اور وہ غم و غصے میں  بھرا رہتا ہے۔جب یہ اپنے لئے بیٹیوں  کو اس قدر ناگوار سمجھتے ہیں  تو اس خدائے پاک کے لئے بیٹیاں  بتاتے ہوئے انہیں  شرم نہیں  آتی۔(خازن، الزخرف، تحت الآیۃ: ۱۷، ۴ / ۱۰۳، ملتقطاً)

بیٹیوں  سے نفرت کرنا اور ان کی پیدائش سے گھبرانا کفار کا طریقہ ہے:

            کفار کا اپنی بیٹیوں  سے نفرت کا حال بیان کرتے ہوئے ایک اورمقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِالْاُنْثٰى ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌۚ(۵۸) یَتَوَارٰى مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوْٓءِ مَا بُشِّرَ بِهٖؕ-اَیُمْسِكُهٗ عَلٰى هُوْنٍ اَمْ یَدُسُّهٗ فِی التُّرَابِؕ-اَلَا سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ‘‘(سورۃ النحل:۵۸،۵۹)

ترجمۂ  کنزُالعِرفان: اور جب ان میں  کسی کو بیٹی ہونے کی  خوشخبری دی جاتی ہے تو دن بھر اس کا منہ کالا رہتا ہے اور وہ  غصے سے بھراہوتا ہے۔ اس بشارت کی برائی کے سبب لوگوں  سے چھپا پھرتا ہے ۔ کیا اسے ذلت کے ساتھ رکھے گا یا اسے مٹی میں  دبادے گا؟ خبردار! یہ کتنا برا فیصلہ کررہے ہیں ۔

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ لڑکیوں  کی پیدائش سے گھبرانا کافروں  کا طریقہ ہے لہٰذا مسلمانوں  کو چاہئے کہ بیٹی پیدا ہونے پر گھبرانے کی بجائے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں  اور جس عورت کے ہاں  پہلی اولاد بیٹی ہو اسے منحوس نہ سمجھیں  کیونکہ ایسی عورت برکت والی ہوتی ہے،جیساکہ حضرت واثلہ بن اسقع رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’عورت کی برکت یہ ہے کہ ا س سے پہلی بار بیٹی پیدا ہو۔( ابن عساکر، ذکر من اسمہ: العلاء، ۵۴۷۳-العلاء بن کثیر ابو سعید، ۴۷ / ۲۲۵)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now