قرآن - 43:53 سورہ الزخرف ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

53
فَلَوۡلَآ أُلۡقِيَ عَلَيۡهِ أَسۡوِرَةٞ مِّن ذَهَبٍ أَوۡ جَآءَ مَعَهُ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ مُقۡتَرِنِينَ

Transliteration: (Falaw laa ulqiya 'alaihi aswiratun min zahabin aw jaaa'a ma'ahul malaaa'ikatu muqtarineen)

ترجمہ: کنزالایمان - فَلَوْ لَاۤ اُلْقِیَ عَلَیْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَآءَ مَعَهُ الْمَلٰٓىٕكَةُ مُقْتَرِنِیْنَ(53) || تو اس پر کیوں نہ ڈالے گئے سونے کے کنگن یا اس کے ساتھ فرشتے آتے کہ اس کے پاس رہتے۔ ترجمہ: کنزالعرفان ۔ (اگر یہ رسول ہے)تو اس پر سونے کے کنگن کیوں نہ ڈالے گئے؟ یا اس کے ساتھ قطار بنا کرفرشتے آتے؟ || ۔ (اگر یہ رسول ہے)تو اس پر سونے کے کنگن کیوں نہ ڈالے گئے؟ یا اس کے ساتھ قطار بنا کرفرشتے آتے؟

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الزخرف آیت 53 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{فَلَوْ لَاۤ اُلْقِیَ عَلَیْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ: تو اس پر سونے کے کنگن کیوں  نہ ڈالے گئے؟} فرعون نے کہا کہ اگر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سچے ہیں  اور اللہ تعالیٰ نے انہیں  ایساسردار بنایا ہے جس کی اطاعت واجب ہے تو انہیں  سونے کا کنگن کیوں  نہیں  پہنایا گیا۔فرعون نے یہ بات اپنے زمانے کے دستور کے مطابق کہی کہ اس زمانے میں  جس کسی کو سردار بنایا جاتا تھا تواسے سونے کے کنگن اور سونے کا طوق پہنایا جاتا تھا ۔فرعون نے مزید یہ کہا کہ رسالت کے دعویٰ میں  سچے ہونے کی گواہی دینے کیلئے اس کے ساتھ قطار بنا کرفرشتے کیوں  نہیں  آتے؟( خازن، الزّخرف، تحت الآیۃ: ۵۳، ۴ / ۱۰۸)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now