قرآن - 39:13 سورہ الزمر ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

13
قُلۡ إِنِّيٓ أَخَافُ إِنۡ عَصَيۡتُ رَبِّي عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيمٖ

Transliteration: (Qul inneee akhaafu in 'asaitu Rabbee 'azaaba Yawmin 'azeem)

ترجمہ: کنزالایمان - قُلْ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ(13) || تم فرماؤ بالفرض اگر مجھ سے نافرمانی ہوجائے تو مجھے بھی اپنے رب سے ایک بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے۔ ترجمہ: کنزالعرفان تم فرماؤ :بالفرض اگر مجھ سے نافرمانی ہوجائے تو مجھے اپنے رب سے ایک بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے۔ || تم فرماؤ :بالفرض اگر مجھ سے نافرمانی ہوجائے تو مجھے اپنے رب سے ایک بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الزمر آیت 13 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{قُلْ: تم فرماؤ۔} اس آیت کاشانِ نزول یہ ہے کہ کفارِ قریش نے نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے کہا تھا کہ آپ اپنی قوم کے سرداروں  اور اپنے رشتہ داروں  کو نہیں  دیکھتے جو لات و عُزّیٰ کی پوجاکرتے ہیں ۔ اُن کے رد میں  یہ آیت نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے فرمایا کہ آپ ان مشرکین سے فرمادیں’’اگر بالفرض مجھ سے اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی ہوجائے تو مجھے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ سے ایک بڑے دن یعنی قیامت کے عذاب کا ڈر ہے۔(مدارک، الزمر، تحت الآیۃ: ۱۳، ص۱۰۳۳، تفسیر طبری، الزمر، تحت الآیۃ: ۱۳، ۱۰ / ۶۲۳، ملتقطاً) مراد یہ ہے کہ میں  خدا کے عذاب سے بچنے کی کوشش کروں  یا آباؤ اَجداد کی مخالفت سے بچوں ۔ وہ آباؤ اَجداد جو اللہ کے عذاب سے بچا نہیں  سکتے۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now