Transliteration: (Mai yaateehi 'azaabuny yukhzeehi wa yahillu 'alaihi 'azaabum muqeem)
{قُلْ: تم فرماؤ۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ کی قوم کے وہ مشرک جنہوں نے بتوں کو معبود بنا لیا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی بجائے ان بتوں کی عبادت میں مصروف ہیں ، اور آپ کو ان بتوں سے ڈراتے ہیں ، آپ ان سے فرما دیں ’’اے میری قوم!اگر تم نہیں مانتے توتم اپنی جگہ پرکام کیے جاؤ اورمیری عداوت و دشمنی میں تم سے جو جو سازشیں اور حیلے ہوسکیں سب ہی کر گزرو اورمیں اپنا وہ کام کرتا ہوں جس پر مامور ہوں ،میری ذمہ داری دین قائم کرنا ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ میر احامی و ناصر اور مددگار ہے اور اسی پر میرا بھروسہ ہے،بس عنقریب تم جان لو گے کہ رسوا کُن عذاب کس پر آتا ہے اور کس پرہمیشہ کا عذاب اترتا ہے؟ چنانچہ غزوہ ِبدر کے دن و ہ مشرکین رسوائی کے عذاب میں مبتلا ہوئے اور آخرت میں جہنم کے دائمی عذاب میں مبتلا ہوں گے۔( تفسیر طبری، الزّمر، تحت الآیۃ: ۳۹-۴۰، ۱۱ / ۸-۹، خازن، الزّمر، تحت الآیۃ: ۳۹-۴۰، ۴ / ۵۶-۵۷، مدارک، الزّمر، تحت الآیۃ: ۳۹-۴۰، ص۱۰۳۹، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الزمر آیت 40 تفسیر