قرآن - 39:56 سورہ الزمر ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

56
أَن تَقُولَ نَفۡسٞ يَٰحَسۡرَتَىٰ عَلَىٰ مَا فَرَّطتُ فِي جَنۢبِ ٱللَّهِ وَإِن كُنتُ لَمِنَ ٱلسَّـٰخِرِينَ

Transliteration: (An taqoola nafsuny yaahasrataa 'alaa maa farrattu fee jambil laahi wa in kuntu laminas saakhireen)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ اتَّبِعُوْۤا اَحْسَنَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ الْعَذَابُ بَغْتَةً وَّ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ(55)اَنْ تَقُوْلَ نَفْسٌ یّٰحَسْرَتٰى عَلٰى مَا فَرَّطْتُّ فِیْ جَنْۢبِ اللّٰهِ وَ اِنْ كُنْتُ لَمِنَ السّٰخِرِیْنَ(56)اَوْ تَقُوْلَ لَوْ اَنَّ اللّٰهَ هَدٰىنِیْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ(57)اَوْ تَقُوْلَ حِیْنَ تَرَى الْعَذَابَ لَوْ اَنَّ لِیْ كَرَّةً فَاَكُوْنَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ(58) || اور اس کی پیروی کرو جو اچھی سے اچھی تمہارے رب سے تمہاری طرف اُتاری گئی قبل اس کے کہ عذاب تم پر اچانک آجائے اور تمہیں خبر نہ ہو۔ کہ کہیں کوئی جان یہ نہ کہے کہ ہائے افسوس ان تقصیروں پر جو میں نے اللہ کے بارے میں کیں اور بیشک میں ہنسی بنایا کرتا تھا۔ یا کہے اگر اللہ مجھے راہ دکھاتا تو میں ڈر والوں میں ہوتا۔ یا کہے جب عذاب دیکھے کسی طرح مجھے واپسی ملے کہ میں نیکیاں کروں ۔ ترجمہ: کنزالعرفان اورتمہارے رب کی طرف سے جو بہترین چیزتمہاری طرف نازل کی گئی ہے اس کی اس وقت سے پہلے پیروی اختیار کرلو کہ تم پر اچانک عذا ب آجائے اور تمہیں خبر (بھی) نہ ہو۔ ۔ (پھر ایسا نہ ہو) کہ کوئی جان یہ کہے کہ ہائے افسوس ان کوتاہیوں پر جو میں نے اللہ کے بارے میں کیں اور بیشک میں مذاق اڑانے والوں میں سے تھا۔ یا کہے :اگر اللہ مجھے ہدایت دیتا تو میں بھی پرہیزگاروں میں سے ہوتا۔ یاجب عذاب دیکھے توکہے :اگر مجھے ایک مرتبہ لوٹنا (نصیب) ہوتا تو میں نیکیاں کرنے والوں میں سے ہوجاتا۔ || اورتمہارے رب کی طرف سے جو بہترین چیزتمہاری طرف نازل کی گئی ہے اس کی اس وقت سے پہلے پیروی اختیار کرلو کہ تم پر اچانک عذا ب آجائے اور تمہیں خبر (بھی) نہ ہو۔ ۔ (پھر ایسا نہ ہو) کہ کوئی جان یہ کہے کہ ہائے افسوس ان کوتاہیوں پر جو میں نے اللہ کے بارے میں کیں اور بیشک میں مذاق اڑانے والوں میں سے تھا۔ یا کہے :اگر اللہ مجھے ہدایت دیتا تو میں بھی پرہیزگاروں میں سے ہوتا۔ یاجب عذاب دیکھے توکہے :اگر مجھے ایک مرتبہ لوٹنا (نصیب) ہوتا تو میں نیکیاں کرنے والوں میں سے ہوجاتا۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الزمر آیت 56 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ اتَّبِعُوْا: اور پیروی کرو۔} اس آیت اور اس کے بعد والی تین آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اے لوگو!اس سے پہلے کہ تم پر اچانک عذاب آجائے اور تمہیں  خبر بھی نہ ہو، تم وہ کام کرو جس کا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآنِ پاک میں  تمہیں  حکم دیا ہے اور جس کام سے منع کیا ہے اس سے باز آ جاؤ۔پھر ایسا نہ ہوکہ عذاب دیکھنے کے بعد کوئی جان یہ کہے کہ ہائے افسوس ان کوتاہیوں  پر جو میں  نے اللہ تعالیٰ کے بارے میں  کیں  کہ اس کی فرمانبرداری نہ کرسکااور اس کے حق کو نہ پہچانا اور اس کی رضا حاصل کرنے کی فکر نہ کی اور بیشک میں تو اللہ تعالیٰ کے دین کا اور ا س کی کتاب کا مذاق اڑانے والوں  میں  سے تھا۔ یا کوئی جان یہ کہے کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے اپنا دین قبول کرنے اور اپنی فرمانبرداری کی توفیق دیتا تو میں  بھی پرہیزگاروں  میں  سے ہوتا۔یاجب عذاب دیکھے توکوئی جان یہ کہے :اگر مجھے ایک مرتبہ پھردنیا کی طرف لوٹنانصیب ہوتاتو میں  نیکیاں  کرنے والوں  میں  سے ہوجاتا۔(تفسیر طبری، الزّمر، تحت الآیۃ: ۵۵-۵۸، ۱۱ / ۱۸-۲۰، خازن، الزّمر، تحت الآیۃ: ۵۵-۵۸، ۴ / ۶۰-۶۱، ملتقطاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now