Transliteration: (In takfuroo fa innal laaha ghaniyyun 'ankum; wa laa yardaa li'ibaadihil kufra wa in tashkuroo yardahu lakum; wa laa taziru waaziratunw wizra ukhraa; summa ilaa Rabikum marji'ukum fa-yunabbi'ukum bimaa kuntum ta'maloon; innahoo 'aleemum bizaatissudoor)
{اِنْ تَكْفُرُوْا: اگر تم ناشکری کرو۔} اس آیت میں کفار سے خطاب فرمایا گیا اور ایک احتمال یہ ہے کہ تمام لوگوں سے خطاب فرمایا گیاکہ اللہ تعالیٰ کی عظمت پر دئیے گئے دلائل کامشاہدہ کرنے کے بعد بھی اگر تم (کفر کر کے) اللہ تعالیٰ کی ناشکری کرو تو بیشک اللہ تعالیٰ تمہارے ایمان اور تمہاری طاعت و عبادت سے بے نیاز ہے اور تم ہی اس کے محتاج ہو، ایمان لانے میں تمہارا ہی نفع ہے اور کافر ہوجانے میں تمہارا ہی نقصان ہے اور اگرچہ بندوں کے کفر و ایمان سے اللہ تعالیٰ کو کوئی نفع یا نقصان نہیں لیکن اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اپنے بندوں کی ناشکری کو پسند نہیں کرتا کیونکہ اس میں بندوں کا نقصان ہے اوراگر تم ایمان قبول کر کے شکر کرو تو اسے تمہارے لیے پسند فرماتا ہے کیونکہ وہ تمہاری کامیابی کا سبب ہے، اس پر تمہیں اللہ تعالیٰ ثواب دے گا اور جنت عطا فرمائے گا اور کوئی شخص دوسرے کے گناہ کی وجہ سے نہیں پکڑا جائے گا (البتہ گمراہ کرنے والوں پر ان کا اپنا بوجھ بھی ہو گا اور دوسرے گمراہوں کا بھی جنہیں اِنہوں نے بہکایا ہوگا)، پھر تمہیں آخرت میں اپنے رب عَزَّوَجَلَّ ہی کی طرف پھرنا ہے تو وہ تمہیں بتادے گا جو تم دنیا میں کرتے تھے اور اس کی تمہیں جزا دے گا ،بیشک وہ دلوں کی بات جانتا ہے۔(بحر المحیط ، الزمر، تحت الآیۃ : ۷، ۷ / ۴۰۰، بیضاوی، الزمر، تحت الآیۃ: ۷، ۵ / ۵۹، مدارک، الزمر، تحت الآیۃ: ۷، ص۱۰۳۱-۱۰۳۲، خازن، الزمر، تحت الآیۃ: ۷، ۴ / ۴۹-۵۰، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الزمر آیت 7 تفسیر