Transliteration: (Innal laaha ‘aalimu ghaibis samaawaati wal ard; innahoo ‘aleemum bizaatis sudoor)
{اِنَّ اللّٰهَ عٰلِمُ غَیْبِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ: بیشک اللہ آسمانوں اور زمین کی ہر چھپی بات کوجاننے والا ہے۔} یعنی آسمانوں اور زمین میں جو چیزیں بندوں سے غائب اور ان سے مخفی ہیں ان تما م چیزوں کو اللہ تعالیٰ جانتا ہے ، جب اس کی شان یہ ہے تو اس پر کفار کے اَحوال کس طرح مخفی رہ سکتے ہیں ، اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ اگر اب بھی انہیں دنیا میں لوٹا دیا جائے تو وہ کفر ہی کریں گے اوربیشک اللہ تعالیٰ دلوں کی بات جانتا ہے۔( روح البیان، فاطر، تحت الآیۃ: ۳۸، ۷ / ۳۵۶، ملخصاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ فاطر آیت 38 تفسیر