قرآن - 19:32 سورہ مريم ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

32
وَبَرَّۢا بِوَٰلِدَتِي وَلَمۡ يَجۡعَلۡنِي جَبَّارٗا شَقِيّٗا

Transliteration: (Wa barram biwaalidatee wa lam yaj'alnee jabbaaran shaqiyyaa)

ترجمہ: کنزالایمان - وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَتِیْ٘-وَ لَمْ یَجْعَلْنِیْ جَبَّارًا شَقِیًّا(32) || اور اپنی ماں سے اچھا سلوک کرنے والا اور مجھے زبردست بدبخت نہ کیا۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور (مجھے) اپنی ماں سے اچھا سلوک کرنے والا (بنایا) اور مجھے متکبر، بدنصیب نہ بنایا۔ || اور (مجھے) اپنی ماں سے اچھا سلوک کرنے والا (بنایا) اور مجھے متکبر، بدنصیب نہ بنایا۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ مريم آیت 32 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ بَرًّۢا بِوَالِدَتِیْ:اور اپنی ماں  سے اچھا سلوک کرنے والا۔} یعنی  اللہ تعالیٰ نے مجھے میری والدہ کاخدمت گزار بنایا ہے اور مجھے حق بات کے خلاف تکبر کرنے والا اور بدنصیب نہیں  بنایا بلکہ عاجزی اور انکساری کرنے والا بنایا ہے۔

آیت’’وَ بَرًّۢا بِوَالِدَتِیْ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:

             اس آیت سے تین باتیں  معلوم ہوئیں  :

(1)…حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی والدہ ماجدہ بدکاری کی تہمت سے بری ہیں  کیونکہ اگر وہ کوئی بدکار عورت ہوتیں  تو ایک معصوم رسول کو ان کے ساتھ بھلائی کرنے اور ان کی تعظیم کرنے کا حکم نہ دیا جاتا۔

(2)…حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بغیر باپ کے پیدا ہوئے ہیں  کیونکہ آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اپنی والدہ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم دیاگیا ہے۔ اس سے ماں  کا مرتبہ بھی معلوم ہوا کہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو بھی اُن سے حسن ِسلوک کا فرمایا جاتا ہے اور  اللہ تعالیٰ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو فطرت کے اعتبار سے ہی ماں  سے حسن ِ سلوک کرنے والا بناتا ہے۔

(3)… انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بد عقیدگی، بد عملی، بد خلقی اور سخت دلی سے معصوم ہوتے ہیں  کیونکہ بد عقیدہ اور بد عمل لوگ بد بخت ہوتے ہیں  ۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now