قرآن - 19:33 سورہ مريم ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

33
وَٱلسَّلَٰمُ عَلَيَّ يَوۡمَ وُلِدتُّ وَيَوۡمَ أَمُوتُ وَيَوۡمَ أُبۡعَثُ حَيّٗا

Transliteration: (Wassalaamu 'alaiya yawma wulidtu wa yawma amootu wa yawma ub'asu haiyaa)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ السَّلٰمُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُّ وَ یَوْمَ اَمُوْتُ وَ یَوْمَ اُبْعَثُ حَیًّا(33) || اور وہی سلامتی مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مروں گا اور جس دن زندہ اٹھایا جاؤں گا۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور مجھ پر سلامتی ہو جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن وفات پاؤں اور جس دن زندہ اٹھایا جاؤں ۔ || اور مجھ پر سلامتی ہو جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن وفات پاؤں اور جس دن زندہ اٹھایا جاؤں ۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ مريم آیت 33 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ السَّلٰمُ عَلَیَّ:اور مجھ پر سلامتی ہو۔} آخر میں  حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ویساہی کلام کیا جوگزشتہ رکوع میں  حضرت یحیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے حوالے سے گزر چکا ہے کہ میں  جس دن پیدا ہوا اس دن مجھ پر سلامتی ہو، جس دن وفات پاؤں  اس دن مجھ پرسلامتی ہو اور جس دن زندہ اٹھایا جاؤں  اس دن مجھ پر سلامتی ہو۔ جب حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے یہ کلام فرمایا توتمام لوگ خاموش ہوگئے اور ان کوآپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی والدہ ماجدہ کے نیک، پرہیزگار ہونے پر یقین آگیا کہ جوبچہ اس طرح کی باتیں  کر رہا ہے اس کی والدہ ہمارے لگائے ہوئے الزامات سے بَری ہیں ، اس کلام کے بعد آپ خاموش ہوگئے اور دوبارہ اسی وقت کلام کیاجب دوسرے بچوں  کی طرح بولنے کی عمرتک پہنچ گئے۔( خازن، مریم، تحت الآیۃ: ۳۳، ۳ / ۲۳۴) اس سے معلوم ہوا کہ  اللہ تعالیٰ کے نبی عَلَیْہِ السَّلَام ولادت، زندگی، وفات،حشر ہر جگہ  اللہ عَزَّوَجَلَّ کے امن میں  رہتے ہیں ۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now