قرآن - 19:35 سورہ مريم ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

35
مَا كَانَ لِلَّهِ أَن يَتَّخِذَ مِن وَلَدٖۖ سُبۡحَٰنَهُۥٓۚ إِذَا قَضَىٰٓ أَمۡرٗا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُۥ كُن فَيَكُونُ

Transliteration: (Maa kaana lillaahi ai yattakhiza minw waladin Subhaanah; izaa qadaaa amran fa innamaa yaqoolu lahoo kun fa yakoon)

ترجمہ: کنزالایمان - مَا كَانَ لِلّٰهِ اَنْ یَّتَّخِذَ مِنْ وَّلَدٍۙ-سُبْحٰنَهٗؕ-اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُﭤ(35) || اللہ کو لائق نہیں کہ کسی کو اپنا بچہ ٹھہرائے پاکی ہے اس کو جب کسی کام کا حکم فرماتا ہے تو یونہی کہ اس سے فرماتا ہے ہوجاوہ فوراً ہوجاتا ہے۔ ترجمہ: کنزالعرفان اللہ کیلئے لائق نہیں کہ وہ کسی کو اپنا بیٹا بنائے ، وہ پاک ہے ۔ جب وہ کسی کام کا فیصلہ فرماتا ہے تو اسے صرف یہ فرماتا ہے ، ’’ہوجا‘‘ تو وہ فوراً ہوجاتا ہے۔ || اللہ کیلئے لائق نہیں کہ وہ کسی کو اپنا بیٹا بنائے ، وہ پاک ہے ۔ جب وہ کسی کام کا فیصلہ فرماتا ہے تو اسے صرف یہ فرماتا ہے ، ’’ہوجا‘‘ تو وہ فوراً ہوجاتا ہے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ مريم آیت 35 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{مَا كَانَ لِلّٰهِ اَنْ یَّتَّخِذَ مِنْ وَّلَدٍ: اللہ کیلئے لائق نہیں  کہ وہ کسی کو اپنا بیٹا بنائے۔} اس آیت مبارکہ میں  عیسائیوں  کے اس عقیدے کی تردید ہے کہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بیٹے ہیں ، چنانچہ  اللہ تعالیٰ اولاد سے اپنی پاکی بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے کہ  اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق نہیں  کہ وہ کسی کواپنا بیٹا بنائے اور وہ عیسائیوں  کے لگائے گئے بہتان سے پاک ہے۔ اس کی شان تو یہ ہے کہ جب وہ کسی کام کا فیصلہ فرماتا ہے تواسے صرف یہ فرماتا ہے ، ’’ہوجا‘‘ تو  وہ کام فوراً ہوجاتا ہے، اور جو ایسا قادرِ مُطْلَق ہو اسے بیٹے کی کیا حاجت ہے اور اسے کسی کا باپ کس طرح قرار دیا جا سکتا ہے۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now