Transliteration: (Inna fee zaalika lazikraa liman kaana lahoo qalbun aw alqas sam'a wa huwa shaheed)
{اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ
لَذِكْرٰى: بیشک اس
میں نصیحت ہے۔} یعنی اس سور ت میں سابقہ امتوں کی ہلاکت
وغیرہ کا جو بیان ہوا اس میں بیشک اُس شخص کے لیے نصیحت ہے جو (حق قبول کرنے
والا) دِل رکھتا ہو یا قرآن
اور نصیحت کو توجہ سے سنے اوردل و دماغ سے متوجہ وحاضر ہو۔( روح البیان، ق، تحت الآیۃ: ۳۷، ۹ / ۱۳۵، ملخصاً)
اس
سے معلوم ہواکہ وعظ و نصیحت اور عبرت سے وہی فائدہ اٹھا سکتا ہے جس کے پاس عبرت
پکڑنے والا دل ہو،غور سے سننے والے کان ہوں اور وہ دل سے حاضر رہ کر
وعظ و نصیحت سنے ۔حضرت شبلی رَحْمَۃُاللہ
تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ
قرآن کی نصیحتوں سے فیض حاصل کرنے کے لئے دل ایسے حاضرہونا چاہیے کہ اس
میں پلک جھپکنے کی مقدار بھی غفلت نہ آئے۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ ق آیت 37 تفسیر