قرآن - 50:5 سورہ ق ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

5
بَلۡ كَذَّبُواْ بِٱلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمۡ فَهُمۡ فِيٓ أَمۡرٖ مَّرِيجٍ

ترجمہ: کنزالایمان - بَلْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ فَهُمْ فِیْۤ اَمْرٍ مَّرِیْجٍ(5) || بلکہ انہوں نے حق کو جھٹلایا جب وہ ان کے پاس آیا تو وہ ایک مضطرب بے ثبات بات میں ہیں ۔ ترجمہ: کنزالعرفان بلکہ انہوں نے حق کو جھٹلایا جب وہ ان کے پاس آیا تو وہ ایک ایسی بات میں ہیں جسے قرار نہیں ۔ || بلکہ انہوں نے حق کو جھٹلایا جب وہ ان کے پاس آیا تو وہ ایک ایسی بات میں ہیں جسے قرار نہیں ۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ ق آیت 5 تفسیر


صراط الجنان — Siratul Jinan

{بَلْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ: بلکہ انہوں نے حق کو جھٹلایا۔} اس آیت میں  حق سے مراد نبوت ہے جس کے ساتھ روشن معجزات ہیں  یا اس سے مراد قرآنِ مجیدہے اور آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ کفارِ مکہ نے صرف تعجب ہی نہیں  کیابلکہ ا س سے کہیں  زیادہ خطرناک کام بھی کیا کہ جب ان کے پاس حق آیا تو انہوں  نے سوچے سمجھے بغیر اسے جھٹلا دیا اور وہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور قرآنِ مجید سے متعلق ایک ایسی بات میں  پڑے ہوئے ہیں  جسے قرار نہیں  اور وہ یہ ہے کہ کبھی نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو شاعر ،کبھی جادو گر اور کبھی کاہِن کہتے ہیں  ،اسی طرح قرآنِ پاک کو کبھی شعر،کبھی جادو اور کبھی کہانَت کہتے ہیں،کسی ایک بات پر قائم نہیں  رہتے۔( روح البیان، ق، تحت الآیۃ: ۵، ۹ / ۱۰۵-۱۰۶، مدارک، ق، تحت الآیۃ: ۵، ص۱۱۶۰، جلالین، ق، تحت الآیۃ: ۵، ص۴۲۹، ملتقطاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now