قرآن - 50:7 سورہ ق ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

7
وَٱلۡأَرۡضَ مَدَدۡنَٰهَا وَأَلۡقَيۡنَا فِيهَا رَوَٰسِيَ وَأَنۢبَتۡنَا فِيهَا مِن كُلِّ زَوۡجِۭ بَهِيجٖ

ترجمہ: کنزالایمان - وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِیْجٍ(7)تَبْصِرَةً وَّ ذِكْرٰى لِكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ(8) || اور زمین کو ہم نے پھیلایا اور اس میں لنگر ڈالے اور اس میں ہر بارونق جوڑا اُگایا۔ سوجھ اور سمجھ ہر رجوع والے بندے کے لیے۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور زمین کو ہم نے پھیلایا اور اس میں مضبوط پہاڑ ڈالے اور اس میں ہربارونق جوڑا اگایا۔ ہر رجوع کرنے والے بندے کیلئے بصیرت اور نصیحت کیلئے۔ || اور زمین کو ہم نے پھیلایا اور اس میں مضبوط پہاڑ ڈالے اور اس میں ہربارونق جوڑا اگایا۔ ہر رجوع کرنے والے بندے کیلئے بصیرت اور نصیحت کیلئے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ ق آیت 7 تفسیر


صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا: اور زمین کو ہم نے پھیلایا۔} اس آیت میں  اللہ تعالیٰ کے قادر ہونے کی دوسری دلیل بیان کی جا رہی ہے ،چنانچہ آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ کیا ان کافروں  نے زمین کی طرف نہیں  دیکھا کہ ہم نے زمین کوپانی کی سطح پر (اس طرح) پھیلایا (کہ پانی میں  گھل کر فنا نہیں  ہوتی ورنہ مٹی پانی میں  گھل جاتی ہے) اورزمین پر بڑے بڑے پہاڑ کھڑے کردئیے ہیں تاکہ زمین قائم رہے اور اس میں  ہر سبزے ،پھلوں  اور پھولوں  کے جوڑے اُگائے جو دیکھنے میں  خوبصورت لگتے ہیں  (تو جو رب تعالیٰ زمین کو پیدا فرما سکتا،پہاڑوں  کے ذریعے اسے قائم رکھ سکتا اور ا س میں  نَشْوْ ونَما کی قوت پیدا کر سکتا ہے تو مُردوں  کو دوبارہ زندہ کر دینا اس کی قدرت سے کہاں  بعید ہے)۔(جمل، ق، تحت الآیۃ: ۷، ۷ / ۲۵۸، روح البیان، ق، تحت الآیۃ: ۷، ۹ / ۱۰۷، ملقتطاً)

{تَبْصِرَةً وَّ ذِكْرٰى: بصیرت اور نصیحت کیلئے۔} یعنی آسمان و زمین اور ان سے متعلق بیان کی گئی تمام چیزیں  ہر اس بندے کے لئے بصیرت اور نصیحت حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں  جو اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی انوکھی چیزوں  اور خلقت کے عجائبات میں  غورو فکر کرکے اس کی طرف رجوع کرنے والاہو۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now