Transliteration: (Kuloo war'aw an'aamakum; inna fee zaalika la Aayaatil li ulin nuhaa (section 2))
{كُلُوْا وَ ارْعَوْا اَنْعَامَكُمْ:تم کھاؤ اور اپنے مویشیوں کو چراؤ۔} ارشاد فرمایا کہ ہم نے جو یہ نباتات نکالی ہیں ، ان میں سے تم خود بھی کھاؤ اور اپنے مویشیوں کو بھی چراؤ۔ یاد رہے کہ اس آیت میں جو حکم دیا گیا ہے یہ اِباحت اور اللہ تعالیٰ کی نعمت یاد دلانے کے لئے ہے یعنی ہم نے یہ نباتات تمہارے لئے اس طور پر نکالی ہیں کہ انہیں کھانا اور اپنے جانوروں کو چَرانا تمہارے لئے مباح و جائز ہے۔(مدارک، طہ، تحت الآیۃ: ۵۴، ص۶۹۳)
{اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّهٰى:بیشک اس میں عقل والوں کیلئے نشانیاں ہیں ۔} یعنی زمین کو بچھونا بنانے، اس میں سفر کے لئے راستوں کو آسان کرنے، آسمان سے پانی نازل کرنے اور زمین سے مختلف اَقسام کی نباتات اگانے میں عقل رکھنے والے لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ کے صانع ہونے، اس کی وحدت، اس کی عظیم قدرت اور اس کی ظاہر و باہر حکمت پر دلالت کرنے والی کثیر، واضح اور عظیم نشانیاں ہیں ۔( روح البیان، طہ، تحت الآیۃ: ۵۴، ۵ / ۳۹۶)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ طه آیت 54 تفسیر