Transliteration: (Allazee ja'ala lakumul arda mahdanw wa salaka lakum feehaa subulanw wa anzala minas samaaa'i maaa'an fa akhrajnaa biheee azwaajam min nabaatin shatta)
{اَلَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا:وہ جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا بنایا۔} حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے مزید فرمایا کہ میرا رب عَزَّوَجَلَّ وہ ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا بنایا تاکہ تمہارے لئے اس پر زندگی بسر کرنا ممکن ہو اور تمہارے لیے اس میں راستے آسان کردیے تاکہ ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے میں تمہیں آسانی ہو اوراس نے آسمان سے پانی نازل فرمایا۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا کلام تو یہاں پورا ہو گیا اب اس کلام کو مکمل کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ اہلِ مکہ کو خطاب کر کے فرماتا ہے کہ اے اہلِ مکہ !تو ہم نے اس پانی سے مختلف قسم کی نباتات کے جوڑے نکالے جن کے رنگ،خوشبوئیں اور شکلیں مختلف ہیں اور ان میں سے بعض آدمیوں کے لئے ہیں اور بعض جانوروں کے لئے۔( خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۵۳، ۳ / ۲۵۶، جلالین، طہ، تحت الآیۃ: ۵۳، ص۲۶۳)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ طه آیت 53 تفسیر