قرآن - 20:52 سورہ طه ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

52
قَالَ عِلۡمُهَا عِندَ رَبِّي فِي كِتَٰبٖۖ لَّا يَضِلُّ رَبِّي وَلَا يَنسَى

Transliteration: (Qaala 'ilmuhaa 'inda Rabee fee kitaab, laa yadillu Rabbee wa laa yansaa)

ترجمہ: کنزالایمان - قَالَ عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ فِیْ كِتٰبٍۚ-لَا یَضِلُّ رَبِّیْ وَ لَا یَنْسَى(52) || کہا ان کا علم میرے رب کے پاس ایک کتاب میں ہے میرا رب نہ بہکے نہ بھولے۔ ترجمہ: کنزالعرفان موسیٰ نے فرمایا: ان کا علم میرے رب کے پاس ایک کتاب میں ہے، میرا رب نہ بھٹکتا ہے اور نہ بھولتا ہے۔ || موسیٰ نے فرمایا: ان کا علم میرے رب کے پاس ایک کتاب میں ہے، میرا رب نہ بھٹکتا ہے اور نہ بھولتا ہے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ طه آیت 52 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{قَالَ:موسیٰ نے فرمایا۔} فرعون کی بات سن کر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا: پہلی قوموں  کے حال کا علم میرے رب عَزَّوَجَلَّ کے پاس ایک کتاب لَوحِ محفوظ میں  ہے جس میں  ان کے تمام اَحوال لکھے ہوئے ہیں  اور قیامت کے دن انہیں  ان اعمال پر جزا دی جائے گی ۔

            یہاں  یہ بات ذہن میں  رہے کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے جو جواب دیا کہ اس کاعلم لوحِ محفوظ میں  ہے اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ آپ کوگذشتہ قوموں  کے حالات معلوم نہ تھے بلکہ وجہ یہ تھی کہ وہ آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کوتبلیغ ِدین سے نہ پھیر سکے ۔ مزید فرمایا کہ میرا رب عَزَّوَجَلَّ نہ بھٹکتا ہے اور نہ بھولتا ہے۔ گویا فرمایا کہ تمام اَحوال کا لوحِ محفوظ میں  لکھنا، اس لئے نہیں  کہ رب تعالیٰ کے بھولنے بہکنے کا اندیشہ ہے بلکہ یہ تحریر اپنی دوسری حکمتوں  کی وجہ سے ہے جیسے فرشتوں  اور اپنے محبوب بندوں  کو اطلاع دینے کیلئے ہے جن کی نظر لوحِ محفوظ پر ہے۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now