Transliteration: (Yawma tuqallabu wujoohuhum fin Naari yaqooloona yaa laitanaaa ata'nal laaha wa ata'nar Rasoolaa)
{یَوْمَ تُقَلَّبُ
وُجُوْهُهُمْ فِی النَّارِ: جس دن ان کے چہرے آگ میں باربارالٹے
جائیں گے۔} اس سے پہلی آیت میں بیان ہو اکہ جہنم کی آگ
میں کافروں کا کوئی حمایتی اور مددگار نہ ہو گا اور ا س
آیت میں ان کے عذاب کی کیفیت بیان کی جا رہی ہے کہ جس دن
کافروں کے چہرے جہنم کی آگ میں بار بار الٹ پلٹ کئے
جائیں گے اورآگ میں جلنے کے باعث ان کے چہرے کی رنگت تبدیل
ہورہی ہو گی تو اس وقت وہ انتہائی حسرت کے ساتھ یہ کہہ رہے ہوں گے کہ
ہائے! اے کاش! ہم نے دنیا میں اللہ تعالیٰ اور ا س کے رسول عَلَیْہِ السَّلَام کا حکم مانا ہوتا تو آج ہم عذاب میں گرفتار نہ
ہوتے۔
خیال
رہے کہ جہنم میں کافروں کے پورے جسم پرعذاب ہوگا اور
یہاں آیت میں چہرے کو خاص کرنے کی وجہ یہ ہے کہ چہرہ انسان کے جسم
کاسب سے مکرم اورمُعَظَّم عُضْو ہوتا ہے اورجب ان کاچہرہ آگ
میں باربارالٹ رہا ہوگا تو یہ ان کے لیے بہت زیادہ ذلت اوررسوائی
کاباعث ہوگا۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الأحزاب آیت 66 تفسیر