قرآن - 33:66 سورہ الأحزاب ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

66
يَوۡمَ تُقَلَّبُ وُجُوهُهُمۡ فِي ٱلنَّارِ يَقُولُونَ يَٰلَيۡتَنَآ أَطَعۡنَا ٱللَّهَ وَأَطَعۡنَا ٱلرَّسُولَا۠

Transliteration: (Yawma tuqallabu wujoohuhum fin Naari yaqooloona yaa laitanaaa ata'nal laaha wa ata'nar Rasoolaa)

ترجمہ: کنزالایمان - یَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوْهُهُمْ فِی النَّارِ یَقُوْلُوْنَ یٰلَیْتَنَاۤ اَطَعْنَا اللّٰهَ وَ اَطَعْنَا الرَّسُوْلَا(66) || جس دن ان کے منہ اُلٹ اُلٹ کر آگ میں تلے جائیں گے کہتے ہوں گے ہائے کسی طرح ہم نے اللہ کا حکم مانا ہوتا اور رسول کا حکم ماناہوتا۔ ترجمہ: کنزالعرفان جس دن ان کے چہرے آگ میں باربارالٹے جائیں گے توکہتے ہوں گے: ہائے!اے کاش! ہم نے اللہ کا حکم مانا ہوتا اور رسول کا حکم مانا ہوتا۔ || جس دن ان کے چہرے آگ میں باربارالٹے جائیں گے توکہتے ہوں گے: ہائے!اے کاش! ہم نے اللہ کا حکم مانا ہوتا اور رسول کا حکم مانا ہوتا۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الأحزاب آیت 66 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{یَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوْهُهُمْ فِی النَّارِ: جس دن ان کے چہرے آگ میں  باربارالٹے جائیں  گے۔} اس سے پہلی آیت میں  بیان ہو اکہ جہنم کی آگ میں  کافروں  کا کوئی حمایتی اور مددگار نہ ہو گا اور ا س آیت میں  ان کے عذاب کی کیفیت بیان کی جا رہی ہے کہ جس دن کافروں  کے چہرے جہنم کی آگ میں  بار بار الٹ پلٹ کئے جائیں  گے اورآگ میں  جلنے کے باعث ان کے چہرے کی رنگت تبدیل ہورہی ہو گی تو اس وقت وہ انتہائی حسرت کے ساتھ یہ کہہ رہے ہوں  گے کہ ہائے! اے کاش! ہم نے دنیا میں  اللہ تعالیٰ اور ا س کے رسول عَلَیْہِ السَّلَام کا حکم مانا ہوتا تو آج ہم عذاب میں  گرفتار نہ ہوتے۔

             خیال رہے کہ جہنم میں  کافروں کے پورے جسم پرعذاب ہوگا اور یہاں  آیت میں چہرے کو خاص کرنے کی وجہ یہ ہے کہ چہرہ انسان کے جسم کاسب سے مکرم اورمُعَظَّم عُضْو ہوتا ہے اورجب ان کاچہرہ آگ میں  باربارالٹ رہا ہوگا تو یہ ان کے لیے بہت زیادہ ذلت اوررسوائی کاباعث ہوگا۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now