قرآن - 15:26 سورہ الحجر ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

26
وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ مِن صَلۡصَٰلٖ مِّنۡ حَمَإٖ مَّسۡنُونٖ

ترجمہ: کنزالایمان - وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ(26) || اور بیشک ہم نے آدمی کو بجتی ہوئی مٹی سے بنایا جو اصل میں ایک سیاہ بودار گارا تھی۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور بیشک ہم نے انسان کوخشک بجتی ہوئی مٹی سے بنایا جو ایسے سیاہ گارے کی تھی جس سے بُو آتی تھی۔ || اور بیشک ہم نے انسان کوخشک بجتی ہوئی مٹی سے بنایا جو ایسے سیاہ گارے کی تھی جس سے بُو آتی تھی۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الحجر آیت 26 تفسیر


صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ:اور بیشک ہم نے انسان بنایا۔} اس آیت میں  انسان سے مراد حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہیں ۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی پیدائش کی کیفیت کاذکر قرآنِ پاک کی متعدد آیات میں  مختلف  اندازسے کیا گیا ہے، ان کا خلاصہ یہ ہے کہ  جب  اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو پیدا کرنے کا ارادہ فرمایا تو زمین سے ایک مشت خاک لی، پھر اس مٹی کو پانی سے تر کیا، یہاں  تک کہ وہ سیاہ گارا ہوگئی اور اُس میں  بو پیدا ہوئی، پھر اس سیاہ رنگ اور بو والی مٹی سے انسان کی صورت بنائی، جب وہ سوکھ کر خشک ہوگئی تو جس وقت ہوا اس میں  سے گزرتی تو وہ بجتی اور اس میں  آواز پیدا ہوتی۔ جب سورج کی تپش سے وہ پختہ ہوگئی تو اس میں  روح پھونکی اور وہ انسان بن گیا۔ (خازن، الحجر، تحت الآیۃ: ۲۶، ۳ / ۱۰۰-۱۰۱، ملخصاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now