Transliteration: (Waljaaanna khalaqnaahu min qablu min naaris samoom)
{وَ الْجَآنَّ :اور جن کو۔} حضرت قتادہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں اس آیت میں ’’ اَلْجَآنَّ ‘‘ سے ابلیس مراد ہے ۔ یہ حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے پہلے پیدا کیا گیا ،جب ا بلیس کے بعد حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی پیدائش ہوئی تو ابلیس نے اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ملنے والے مقام و مرتبہ کی بنا پر ان سے حسد کیا اور کہا میں آگ سے بنا ہوں اور یہ مٹی سے ۔ (تفسیر طبری، الحجر، تحت الآیۃ: ۲۶، ۷ / ۵۱۳)
نوٹ:یاد رہے کہ ’’ اَلْجَآنَّ‘‘ سے متعلق مفسرین کے اور بھی اَقوال ہیں ۔
{مِنْ نَّارِ السَّمُوْمِ:بغیر دھویں والی آگ سے ۔} یعنی ابلیس کو حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے پہلے اس آگ سے پیدا کیا جس میں دھواں نہیں ہوتا ۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الحجر آیت 27 تفسیر