قرآن - 15:27 سورہ الحجر ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

27
وَٱلۡجَآنَّ خَلَقۡنَٰهُ مِن قَبۡلُ مِن نَّارِ ٱلسَّمُومِ

Transliteration: (Waljaaanna khalaqnaahu min qablu min naaris samoom)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ الْجَآنَّ خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَّارِ السَّمُوْمِ(27) || اور جِن کو اس سے پہلے بنایا بے دھوئیں کی آگ سے۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور ہم نے اس سے پہلے جن کو بغیر دھویں والی آگ سے پیدا کیا۔ || اور ہم نے اس سے پہلے جن کو بغیر دھویں والی آگ سے پیدا کیا۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الحجر آیت 27 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ الْجَآنَّ :اور جن کو۔} حضرت قتادہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں  اس آیت میں  ’’ اَلْجَآنَّ ‘‘ سے ابلیس مراد ہے ۔ یہ حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے پہلے پیدا کیا گیا ،جب ا بلیس کے بعد حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی پیدائش ہوئی تو ابلیس نے اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ملنے والے مقام و مرتبہ کی بنا پر ان سے حسد کیا اور کہا میں  آگ سے بنا ہوں  اور یہ مٹی سے ۔ (تفسیر طبری، الحجر، تحت الآیۃ: ۲۶، ۷ / ۵۱۳)

          نوٹ:یاد رہے کہ ’’ اَلْجَآنَّ‘‘ سے متعلق مفسرین کے اور بھی اَقوال ہیں ۔

{مِنْ نَّارِ السَّمُوْمِ:بغیر دھویں  والی آگ سے ۔} یعنی ابلیس کو حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے پہلے اس آگ سے پیدا کیا جس میں  دھواں  نہیں  ہوتا ۔ 

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now