قرآن - 53:25 سورہ النجم ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

25
فَلِلَّهِ ٱلۡأٓخِرَةُ وَٱلۡأُولَىٰ

ترجمہ: کنزالایمان - اَمْ لِلْاِنْسَانِ مَا تَمَنّٰى(24)فَلِلّٰهِ الْاٰخِرَةُ وَ الْاُوْلٰى(25) || کیا آدمی کو مل جائے گا جو کچھ وہ خیال باندھے۔ تو آخرت اور دنیا سب کا مالک اللہ ہی ہے۔ ترجمہ: کنزالعرفان کیا انسان کو ہر وہ چیزحاصل ہے جس کی اس نے تمنا کی؟ تو آخرت اور دنیا سب کا مالک اللہ ہی ہے۔ || کیا انسان کو ہر وہ چیزحاصل ہے جس کی اس نے تمنا کی؟ تو آخرت اور دنیا سب کا مالک اللہ ہی ہے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ النجم آیت 25 تفسیر


صراط الجنان — Siratul Jinan

{ اَمْ لِلْاِنْسَانِ مَا تَمَنّٰى: کیا انسان کو ہر وہ چیزحاصل ہے جس کی اس نے تمنا کی؟} یہاں  انسان سے مراد مشرک ہے اور اس کی تمنا سے مراد بتوں  کی شفاعت ہے اور آیت کا معنی یہ ہے کہ کافر بتوں  کے ساتھ جو جھوٹی امیدیں  وابستہ رکھتے ہیں  کہ وہ ان کی شفاعت کریں  گے اوران کے کام آئیں  گے،یہ امیدیں  باطل ہیں ۔( خازن، النجم، تحت الآیۃ: ۲۴، ۴ / ۱۹۶، ملخصاً)

{ فَلِلّٰهِ الْاٰخِرَةُ وَ الْاُوْلٰى: تو آخرت اور دنیا سب کا مالک اللہ ہی ہے۔} یعنی اللہ تعالیٰ دنیا اورآخرت میں  اسے ہی کچھ عطا فرماتا ہے جس نے اللہ تعالیٰ کی ہدایت کی پیروی کی ہو اور اپنی خواہشات کو چھوڑ دیا ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت کا مالک ہے۔( صاوی، النجم، تحت الآیۃ: ۲۵، ۶ / ۲۰۵۱)

            اس آیت کا ایک معنی یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ کافر اپنے من پسند معبودوں  کی عبادت کر رہے ہیں  (یہ جان لیں  کہ) آخرت اور دنیا سب کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے،وہ کافر کو ا س کے کفر کی سزا چاہے دنیا میں  دے یا آخرت تک اسے مہلت دیدے ،یہ ا س کی مرضی ہے۔( خازن، النجم، تحت الآیۃ: ۲۵، ۴ / ۱۹۶)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now