قرآن - 27:87 سورہ النمل ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

87
وَيَوۡمَ يُنفَخُ فِي ٱلصُّورِ فَفَزِعَ مَن فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَن فِي ٱلۡأَرۡضِ إِلَّا مَن شَآءَ ٱللَّهُۚ وَكُلٌّ أَتَوۡهُ دَٰخِرِينَ

Transliteration: (Wa Yawma yunfakhu fis Soori fafazi'a man fis samaawaati wa man fil ardi illaa man shaaa'al laah; wa kullun atawhu daakhireen)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَفَزِعَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُؕ-وَ كُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِیْنَ(87) || اور جس دن پھونکا جائے گا صُور تو گھبرائے جائیں گے جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں ہیں مگر جسے خدا چاہے اور سب اس کے حضور حاضر ہوئے عاجزی کرتے۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور جس دن صور میں پھونکا جائے گا تو جو آسمانوں میں ہیں اور جوزمین میں ہیں سب گھبرا جائیں گے مگر وہ جنہیں الله چاہے اور سب اس کے حضور عاجزی کرتے حاضر ہوں گے۔ || اور جس دن صور میں پھونکا جائے گا تو جو آسمانوں میں ہیں اور جوزمین میں ہیں سب گھبرا جائیں گے مگر وہ جنہیں الله چاہے اور سب اس کے حضور عاجزی کرتے حاضر ہوں گے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ النمل آیت 87 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ: اور جس دن صور میں  پھونکا جائے گا۔} یعنی جس دن اللہ تعالیٰ کی اجازت سے حضرت اسرافیل عَلَیْہِ السَّلَام صور میں  پھونکیں  گے تواس کی آواز سن کر زمین و آسمان کے تمام جاندار خوف زدہ ہو جائیں  گے اور اسی خوف کی وجہ سے مر جائیں  گے۔( تفسیر کبیر، النمل، تحت الآیۃ: ۸۷، ۸ / ۵۷۴، جمل، النمل، تحت الآیۃ: ۸۷، ۵ / ۴۷۷، ملتقطاً)

{اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ: مگر وہ جنہیں  اللہ چاہے۔} یعنی جنہیں  اللہ تعالیٰ چاہے گا اور جن کے دل کو اللہ تعالیٰ سکون عطا فرمائے گا انہیں  یہ گھبراہٹ نہ ہوگی۔حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ یہ لوگ شہداء ہیں  جو اپنی تلواریں  گلوں  میں  حمائل کئے عرش کے گرد حاضر ہوں  گے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں : ’’وہ لوگ شہداء ہیں ، اس لئے کہ وہ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک زندہ ہیں ،انہیں  ا س وقت گھبراہٹ نہ پہنچے گی ۔ ایک قول یہ ہے کہ صور پھونکنے کے بعد حضرت جبریل ،حضرت میکائل ،حضرت اسرافیل اور حضرت عزرائیل عَلَیْہِمُ السَّلَام ہی باقی رہیں  گے۔( مدارک، النمل، تحت الآیۃ: ۸۷، ص۸۵۷، خازن، النمل، تحت الآیۃ: ۸۷، ۳ / ۴۲۱، ملتقطاً)

{وَ كُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِیْنَ: اور سب اس کے حضور عاجزی کرتے حاضر ہوں  گے۔} یعنی قیامت کے دن سب لوگ موت کے بعد زندہ کئے جائیں  گے اور حساب کی جگہ میں  اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی کرتے ہوئے حاضر ہوں  گے۔( مدارک، النمل، تحت الآیۃ: ۸۷، ص۸۵۷، خازن، النمل، تحت الآیۃ: ۸۷، ۳ / ۴۲۱، ملتقطاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now