Transliteration: (Wa taral jibaala tahsabuhaa jaamidatanw wa hiya tamurru marras sahaab; sun'al laahil lazeee atqana kulla shai'; innahoo khabeerun bimaa taf'aloon)
{وَ تَرَى الْجِبَالَ: اور توپہاڑوں کو دیکھے گا۔} اس آیت کا معنی یہ ہے کہ صور پھونکنے کے وقت پہاڑ اپنی بڑی جسامت کی وجہ سے دیکھنے میں تو اپنی جگہ ثابت اورقائم معلوم ہوں گے اور حقیقت میں وہ بادلوں کی طرح انتہائی تیز چلتے ہوں گے ، جیسا کہ بادل وغیرہ بڑے جسم چلتے توہیں لیکن حرکت کرتے ہوئے معلوم نہیں ہوتے ،یہاں تک کہ وہ پہاڑ زمین پر گر کر اس کے برابر ہوجائیں گے، پھر ریزہ ریزہ ہو کر بکھر جائیں گے۔( مدارک، النمل، تحت الآیۃ: ۸۸، ص۸۵۸، خازن، النمل، تحت الآیۃ: ۸۸، ۳ / ۴۲۱، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ النمل آیت 88 تفسیر