قرآن - 27:91 سورہ النمل ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

91
إِنَّمَآ أُمِرۡتُ أَنۡ أَعۡبُدَ رَبَّ هَٰذِهِ ٱلۡبَلۡدَةِ ٱلَّذِي حَرَّمَهَا وَلَهُۥ كُلُّ شَيۡءٖۖ وَأُمِرۡتُ أَنۡ أَكُونَ مِنَ ٱلۡمُسۡلِمِينَ

Transliteration: (Innamaaa umirtu an a'buda Rabba haazihil baldatil lazee harramahaa wa lahoo kullu shai'inw wa umirtu an akoona minal muslimeen)

ترجمہ: کنزالایمان - اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ رَبَّ هٰذِهِ الْبَلْدَةِ الَّذِیْ حَرَّمَهَا وَ لَهٗ كُلُّ شَیْءٍ٘-وَّ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ(91) || مجھے تو یہی حکم ہوا ہے کہ پوجوں اس شہر کے رب کو جس نے اسے حرمت والا کیا ہے اور سب کچھ اسی کا ہے اور مجھے حکم ہوا ہے کہ فرمانبرداروں میں ہوں ۔ ترجمہ: کنزالعرفان مجھے تو یہی حکم ہوا ہے کہ میں اس شہر (مکہ) کے رب کی عبادت کروں جس نے اسے حرمت والا بنایا ہے اورہر شے اسی کی ملکیت ہے اور مجھے حکم ہوا ہے کہ فرمانبرداروں میں سے رہوں ۔ || مجھے تو یہی حکم ہوا ہے کہ میں اس شہر (مکہ) کے رب کی عبادت کروں جس نے اسے حرمت والا بنایا ہے اورہر شے اسی کی ملکیت ہے اور مجھے حکم ہوا ہے کہ فرمانبرداروں میں سے رہوں ۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ النمل آیت 91 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ: مجھے تو یہی حکم ہوا ہے۔} قیامت کے ابتدائی واقعات اور قیامت قائم ہونے کے بعد کے چند اَحوال بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے فرمایا کہ آپ فرمادیجئے : مجھے تو یہی حکم ہوا ہے کہ میں  اس شہر مکہ کے رب عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کروں  اور اپنی عبادت اس رب عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ خاص کروں  جس نے اسے حرمت والا بنایا ہے کہ وہاں  نہ کسی انسان کا خون بہایا جائے، نہ کوئی شکار مارا جائے اورنہ وہاں  کی گھاس کاٹی جائے اور ہر شے حقیقی طور پر اسی کی ملکیت ہے اور اس ملکیت میں  ا س کا کوئی شریک نہیں  اور مجھے یہ حکم ہوا ہے کہ فرمانبرداروں  میں  سے رہوں ۔ آیت میں  مکہ مکرمہ کا ذکر اس لئے ہواہے کہ وہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا وطن اور وحی نازل ہونے کی جگہ ہے۔( خازن، النمل، تحت الآیۃ: ۹۱، ۳ / ۴۲۲)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now