قرآن - 26:103 سورہ الشعراء ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

103
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗۖ وَمَا كَانَ أَكۡثَرُهُم مُّؤۡمِنِينَ

Transliteration: (Inna fee zaalika la Aayatanw wa maa kaana aksaruhum mu'mineen)

ترجمہ: کنزالایمان - اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةًؕ-وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(103) || بیشک اس میں ضرور نشانی ہے اور ان میں بہت ایمان والے نہ تھے۔ ترجمہ: کنزالعرفان بیشک اس بیان میں ضرور نشانی ہے اور ان میں اکثرایمان والے نہ تھے۔ || بیشک اس بیان میں ضرور نشانی ہے اور ان میں اکثرایمان والے نہ تھے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الشعراء آیت 103 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً: بیشک اس میں  ضرور نشانی ہے۔} یعنی حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا اپنی قوم کے ساتھ جو واقعہ بیان کیا گیا اس میں  ان سب کے لئے عبرت کی نشانی ہے جو اللہ تعالٰی کے علاوہ اوروں  کی عبادت کرتے ہیں  تاکہ انہیں  معلوم ہو جائے کہ قیامت کے دن ان کے یہی جھوٹے معبود ان سے بیزاری ظاہر کر دیں  گے اور کسی کو کوئی نفع بھی نہیں  پہنچا سکیں  گے۔( روح البیان، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۰۳، ۶ / ۲۹۱)

{وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ: اور ان میں  اکثرایمان والے نہ تھے۔} یعنی جس طرح کفارِ قریش میں  سے اکثر لوگ ایمان نہیں  لائے اسی طرح حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم میں  سے بھی اکثر لوگ ایمان نہیں  لائے تھے(لہٰذا اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ کفارِ قریش کے ایمان نہ لانے پر غم نہ فرمائیں )( روح البیان، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۰۳، ۶ / ۲۹۱)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now