قرآن - 64:8 سورہ التغابن ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

8
فَـَٔامِنُواْ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَٱلنُّورِ ٱلَّذِيٓ أَنزَلۡنَاۚ وَٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ خَبِيرٞ

Transliteration: (Fa-aaminoo billaahi wa rasoolihee wannooril lazeee anzalnaa; wallaahu bima ta'maloona khabeer)

ترجمہ: کنزالایمان - فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ النُّوْرِ الَّذِیْۤ اَنْزَلْنَاؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(8) || تو ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول اور اس نور پر جو ہم نے اُتارا اور اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے۔ ترجمہ: کنزالعرفان توایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول اور اس نور پر جو ہم نے اتارا اور اللہ تمہارے کاموں سے خوب خبردار ہے۔ || توایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول اور اس نور پر جو ہم نے اتارا اور اللہ تمہارے کاموں سے خوب خبردار ہے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ التغابن آیت 8 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ النُّوْرِ الَّذِیْۤ اَنْزَلْنَا: تو ایمان لاؤ اللّٰہ اور اس کے رسول اور اس نور پرجو ہم نے اتارا۔} اس سے پہلی آیت میں  مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کی جو خبر دی گئی ،اس کا اعتراف کرناچونکہ ایمان لانے پر ابھارتا ہے اس لئے یہاں  آیت میں  ایمان لانے کا فرمایا گیا۔بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ جھٹلانے والی امتوں  کا حال اور ان پر نازل ہونے والے عذاب کا حال بیان کرنے کے بعدیہاں  فرمایا جا رہا ہے کہ اے کافرو! جب تم نے ان کا حال اور انجام جان لیا تواللّٰہ تعالیٰ،اس کے رسول محمد مصطفٰی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور اس نور پرایمان لاؤ جو ہم نے اتارا ہے تاکہ تم پر وہ عذاب نازل نہ ہو جو سابقہ کافروں  پر نازل ہو ا ہے اور(یاد رکھو کہ )اللّٰہ تعالیٰ تمہارے کاموں  سے خبردار ہے اور وہ تمہیں  تمہارے اعمال کی جزا دے گا۔( تفسیر کبیر، التغابن ، تحت الآیۃ : ۸، ۱۰ / ۵۵۴ ، خازن، التغابن، تحت الآیۃ: ۸، ۴ / ۲۷۵، روح البیان، التغابن، تحت الآیۃ: ۸، ۱۰ / ۱۰، ملتقطاً)

اس آیت میں  نورسے مرادقرآن شریف ہے کیونکہ اس کی بدولت گمراہی کی تاریکیاں  دور ہوتی ہیں  اور ہدایت و ضلالت دونوں واضح ہوتی ہیں ۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now