قرآن - 39:44 سورہ الزمر ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

44
قُل لِّلَّهِ ٱلشَّفَٰعَةُ جَمِيعٗاۖ لَّهُۥ مُلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ ثُمَّ إِلَيۡهِ تُرۡجَعُونَ

ترجمہ: کنزالایمان - اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُفَعَآءَؕ-قُلْ اَوَ لَوْ كَانُوْا لَا یَمْلِكُوْنَ شَیْــٴًـا وَّ لَا یَعْقِلُوْنَ(43)قُلْ لِّلّٰهِ الشَّفَاعَةُ جَمِیْعًاؕ-لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ(44) || کیا اُنہوں نے اللہ کے مقابل کچھ سفارشی بنا رکھے ہیں تم فرماؤ کیا اگرچہ وہ کسی چیز کے مالک نہ ہوں اور نہ عقل رکھیں ۔ تم فرماؤ شفاعت تو سب اللہ کے ہاتھ میں ہے اُسی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی پھر تمہیں اُسی کی طرف پلٹنا ہے۔ ترجمہ: کنزالعرفان کیا انہوں نے اللہ کے مقابلے میں کچھ سفارشی بنا رکھے ہیں ؟ تم فرماؤ :کیا اگرچہ وہ کسی چیز کے مالک نہ ہوں اور نہ کچھ سمجھ رکھتے ہوں ۔ تم فرماؤ:تمام شفاعتوں کا مالک اللہ ہی ہے۔ اسی کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ || کیا انہوں نے اللہ کے مقابلے میں کچھ سفارشی بنا رکھے ہیں ؟ تم فرماؤ :کیا اگرچہ وہ کسی چیز کے مالک نہ ہوں اور نہ کچھ سمجھ رکھتے ہوں ۔ تم فرماؤ:تمام شفاعتوں کا مالک اللہ ہی ہے۔ اسی کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الزمر آیت 44 تفسیر


صراط الجنان — Siratul Jinan

{اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُفَعَآءَ: کیا انہوں  نے اللہ کے مقابلے میں  کچھ سفارشی بنا رکھے ہیں ؟} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ مشرکین اللہ تعالیٰ کے علاوہ جن باطل معبودوں  کی پوجا کرتے ہیں  ،کیا انہوں  نے اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں  انہیں  سفارشی بنا رکھا ہے کہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں  ان کی حاجات کے وقت شفاعت کریں گے ؟اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ ان سے فرما دیں  کہ کیا تم بتوں  کو اپنا سفارشی بناتے ہو اگرچہ وہ تمہارے لئے کسی نفع اور نقصان کے مالک نہ ہوں ،اگرچہ وہ کسی چیز کی سمجھ بوجھ نہ رکھتے ہوں ؟ اگر تم اس وجہ سے بتوں  کی پوجا کرتے ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  تمہاری سفارش کریں  گے تو پھر انہیں  چھوڑ کر صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا شروع کردو اور صرف اسے ہی اپنامعبود مانو کیونکہ تمام شفاعتوں  کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے اور اس کی بارگاہ میں  صرف وہی کسی کی سفارش کر سکے گا جسے اللہ تعالیٰ اجازت دے گا اور اس سے اللہ تعالیٰ راضی ہو گا۔ آسمانوں  اور زمینوں  میں  صرف اللہ تعالیٰ ہی کی سلطنت اور بادشاہت ہے جبکہ تمہارے باطل معبودوں  کو ذرہ بھر بھی بادشاہت حاصل نہیں  لہٰذا تم اس کی عبادت کرو جس کی بادشاہت ہے اور جو تمہیں  دنیا میں  اور مرنے کے بعد اپنی طرف لوٹتے وقت بھی نفع اور نقصان پہنچانے پر قدرت رکھتا ہے کیونکہ مرنے کے بعد تمہیں  اسی کی طرف لوٹنا ہے۔( تفسیرطبری، الزّمر، تحت الآیۃ: ۴۳-۴۴، ۱۱ / ۱۰، ملخصاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now