Transliteration: (Wa izaa zukiral laahu wahdahush ma azzat quloobul lazeena laa yu'minoona bil Aakhirati wa izaa zukiral lazeena min dooniheee izaa hum yastabshiroon)
{وَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحْدَهُ: اور جب ایک اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے۔} اس آیت میں مشرکین کے برے اعمال کی
ایک اور قسم بیان کی جارہی کہ جب ایک اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر کیا جاتا ہے یعنی یہ کہ وہی تنہامعبودو مالک ہے تومنکرین
ِآخرت کے دلوں میں ذکر ِ خدا سے نفرت
پیدا ہوتی ہے اور وہ سینوں میں گھٹن محسوس کرتے
ہیں نیز تنگ دل اور پریشان ہوتے ہیں اور ناگواری کے اثرات
ان کے چہروں پر ظاہر ہوجاتے ہیں اور جب اللہ تعالیٰ کی بجائے ان کے بتوں کا ذکر ہوتا ہے تو اس وقت خوش
ہوتے ہیں اور دلوں میں بڑی فرحت محسوس کرتے
ہیں ، یہ ان کی جہالت اور حماقت کی دلیل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ذکر تو سب سے بڑی سعادت ،تمام بھلائیوں کی بنیاد
اور دلوں کی ٹھنڈک ہے جبکہ بے جان اور خسیس بتوں کا ذکر
جہالت و حماقت ہے ۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الزمر آیت 45 تفسیر