قرآن - 40:66 سورہ غافر ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

66
۞قُلۡ إِنِّي نُهِيتُ أَنۡ أَعۡبُدَ ٱلَّذِينَ تَدۡعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ لَمَّا جَآءَنِيَ ٱلۡبَيِّنَٰتُ مِن رَّبِّي وَأُمِرۡتُ أَنۡ أُسۡلِمَ لِرَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ

ترجمہ: کنزالایمان - قُلْ اِنِّیْ نُهِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَمَّا جَآءَنِیَ الْبَیِّنٰتُ مِنْ رَّبِّیْ٘-وَ اُمِرْتُ اَنْ اُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ(66) || تم فرماؤ میں منع کیا گیا ہوں کہ انھیں پوجوں جنھیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو جبکہ میرے پاس روشن دلیلیں میرے رب کی طرف سے آئیں اور مجھے حکم ہوا ہے کہ ربُّ العالَمین کے حضور گردن رکھوں ۔ ترجمہ: کنزالعرفان تم فرماؤ، مجھے منع کیا گیا ہے کہ ان کی عبادت کروں جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو جبکہ میرے پاس میرے رب کی طرف سے روشن دلیلیں آئی ہیں اور مجھے حکم ہے کہ رب العالمین کے حضور گردن رکھوں ۔ || تم فرماؤ، مجھے منع کیا گیا ہے کہ ان کی عبادت کروں جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو جبکہ میرے پاس میرے رب کی طرف سے روشن دلیلیں آئی ہیں اور مجھے حکم ہے کہ رب العالمین کے حضور گردن رکھوں ۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ غافر آیت 66 تفسیر


صراط الجنان — Siratul Jinan

{ قُلْ اِنِّیْ نُهِیْتُ: تم فرماؤ مجھے منع کیا گیا ہے۔} شانِ نزول: کفارِ مکہ نے جہالت اور گمراہی کی بنا پر اپنے باطل دین کی طرف حضورپُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو دعوت دی تھی اور آپ سے بت پرستی کی درخواست کی تھی، اس پر یہ آیت ِکریمہ نازل ہوئی اور ارشاد فرمایا گیا:اے پیارے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ ان کافروں  سے فرما دیں  کہ مجھے بتوں  کی پوجا کرنے سے منع کیا گیاہے اور بے شک میرے پاس میرے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے اس کی وحدانیّت پر دلالت کرنے والی روشن دلیلیں  آ چکی ہیں  ا ور مجھے حکم ہوا ہے کہ میں ربُّ العالَمین کے حضور گردن جھکا کر رکھوں  اور اخلاص کے ساتھ اسی کے دین پر قائم رہوں ۔(خازن، حم المؤمن، تحت الآیۃ: ۶۶، ۴ / ۷۷، مدارک، غافر، تحت الآیۃ: ۶۶، ص۱۰۶۴، روح البیان، المؤمن، تحت الآیۃ: ۶۶، ۸ / ۲۰۶-۲۰۷، ملتقطاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now