Transliteration: (Huwal lazee khalaqakum min turaabin summa min nutfatin summa min 'alaqatin summa yukhrijukum tiflan summa litablughooo ashuddakum summa litakoonoo shuyookhaa; wa minkum mai yutawaffaa min qablu wa litablughooo ajalam musam manw-wa la'allakum ta'qiloon)
{هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ: وہی ہے جس نے تمہیں مٹی سے بنایا۔} یعنی اے لوگو! اللہ وہی ہے جس نے تمہاری اصل اور تمہارے جدِّ اعلیٰ، حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو مٹی سے بنایا پھر حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بعد تمہیں نسل در نسل پہلے منی کے قطرے سے ،پھر جمے ہوئے خون
سے بنایا، پھرایک مخصوص مدت کے بعد وہ تمہیں تمہاری ماں کے
پیٹ سے بچے کی صورت میں نکالتا ہے، پھرتمہیں باقی رکھتا ہے
تا کہ تم اپنی جوانی کو پہنچو اور تمہاری قوت کامل ہو، پھر تمہیں باقی
رکھتا ہے تاکہ بالآخر تم بڑھاپے کی عمر کو پہنچو اورتمہارا حال یہ ہے کہ تم
میں سے کوئی بڑھاپے یا جوانی کو پہنچنے سے پہلے ہی موت کا شکار ہو جاتا
ہے۔ تمہارے ساتھ یہ اس لئے کیا کہ تم زندگی گزارو اور اس لیے کیا کہ تم زندگی
کے محدود وقت تک پہنچو اور اس لیے کیا کہ تم اپنے بدلتے احوال
میں موجود اللہ تعالیٰ کی قدرت اور
وحدانیّت کے دلائل کو سمجھو اور ایمان لاؤ۔( خازن
، حم المؤمن ، تحت الآیۃ : ۶۷ ، ۴ / ۷۷-۷۸ ، روح البیان، المؤمن، تحت الآیۃ: ۶۷، ۸ / ۲۰۷-۲۰۸،جلالین، غافر، تحت الآیۃ: ۶۷، ص۳۹۵، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ غافر آیت 67 تفسیر