قرآن - 50:16 سورہ ق ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

16
وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ وَنَعۡلَمُ مَا تُوَسۡوِسُ بِهِۦ نَفۡسُهُۥۖ وَنَحۡنُ أَقۡرَبُ إِلَيۡهِ مِنۡ حَبۡلِ ٱلۡوَرِيدِ

Transliteration: (Wa laqad khalaqnal insaana wa na'lamu maa tuwaswisu bihee nafsuhoo wa Nahnu aqrabu ilaihi min hablil wareed)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَ نَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهٖ نَفْسُهٗ ۚۖ-وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ(16) || اور بیشک ہم نے آدمی کو پیدا کیا اور ہم جانتے ہیں جو وسوسہ اس کا نفس ڈالتا ہے اور ہم دل کی رگ سے بھی اس سے زیادہ نزدیک ہیں ۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور بیشک ہم نے آدمی کو پیدا کیا اور ہم جانتے ہیں جو وسوسہ اس کا نفس ڈالتا ہے اور ہم دل کی رگ سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں ۔ || اور بیشک ہم نے آدمی کو پیدا کیا اور ہم جانتے ہیں جو وسوسہ اس کا نفس ڈالتا ہے اور ہم دل کی رگ سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں ۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ ق آیت 16 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ: اور بیشک ہم نے آدمی کو پیدا کیا۔} اس آیت میں  اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کے علم کا حال بیان کیا گیا ہے چنانچہ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم نے انسان کو پیدا کیا اور یہ اللہ تعالیٰ کے قادر ہونے کی ایک اعلیٰ دلیل ہے اور ہم اس وَسْوَسے تک کو بھی جانتے ہیں  جواس کا نفس ڈالتا ہے اور اس کے پوشیدہ اَحوال اور دلوں  کے رازہم سے چھپے ہوئے نہیں  ہیں اور ہم اپنے علم اور قدرت کے اعتبار سے انسان کے دل کی رگ سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں  اور بندے کے حال کو خود اس سے زیادہ جاننے والے ہیں  ۔

            علامہ علی بن محمد خازن رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں  :وَرِید وہ رگ ہے جس سے خون جاری ہو کر بدن کے ہر جُزْوْ میں  پہنچتا ہے ،یہ رگ گردن میں  ہے اورآیت کے معنی یہ ہیں  کہ انسان کے اَجزاء ایک دوسرے سے پردے میں ہیں  مگر اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز پردے میں  نہیں ۔( تفسیر خازن، ق، تحت الآیۃ: ۱۶، ۴ / ۱۷۶)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now