Transliteration: (Maa yalfizu min qawlin illaa ladaihi raqeebun 'ateed)
{مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ: جو بات وہ زبان سے
نکالتا ہے۔} یعنی
بندہ جو بات زبان سے نکالتا ہے اسے لکھنے کیلئے ایک محافظ فرشتہ اس کے پاس
تیار ہوتا ہے خواہ وہ بندہ کہیں بھی ہو۔
اعمال لکھنے والے
فرشتوں سے متعلق3اَہم باتیں :
یہاں اعمال
لکھنے والے فرشتوں سے متعلق تین باتیں ملاحظہ ہوں ،
(1)… قضائے حاجت اور
جماع کے وقت فرشتے آدمی کے پاس سے ہٹ جاتے ہیں ۔
(2)… ان
دونوں حالتوں میں آدمی کو بات کرنا جائز
نہیں تاکہ اسے لکھنے کے لئے فرشتوں کو اس حالت
میں اس سے قریب ہونے کی تکلیف نہ ہو۔
(3)… یہ فرشتے آدمی کی
ہر بات حتّٰی کہ بیماری کی حالت میں کراہنا تک لکھتے ہیں اور یہ بھی
کہا گیا ہے کہ صرف وہی چیزیں لکھتے ہیں جن
میں اجرو ثواب یا گرفت و عذاب ہو۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ ق آیت 18 تفسیر