Transliteration: (Maa ya'teehim min zikrim mir Rabbihim muhdasin illas tama'oohu wa hum yal'aboon)
{مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ:جب ان کے پاس کوئی نصیحت آتی ہے۔} یعنی جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن مجید میں نصیحت آمیز کوئی ایسی آیت نازل ہوتی ہے جو انہیں اعلیٰ طریقے سے اخروی حساب کی یاد دلائے اوراس سے غفلت کا شکار ہونے پر کامل طریقے سے تنبیہ کرے تو یہ اس میں غورو فکر کر کے عبرت ونصیحت حاصل کرنے اور اپنی غفلت دور کرنے کی بجائے اسے کھیلتے اور مذاق مَسخری کرتے ہوئے ہی سنتے ہیں اور آنے والے وقت کے لئے کچھ تیاری نہیں کرتے۔( روح البیان، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۲، ۵ / ۴۵۲، خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۲، ۳ / ۲۷۱، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الأنبياء آیت 2 تفسیر