قرآن - 21:3 سورہ الأنبياء ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

3
لَاهِيَةٗ قُلُوبُهُمۡۗ وَأَسَرُّواْ ٱلنَّجۡوَى ٱلَّذِينَ ظَلَمُواْ هَلۡ هَٰذَآ إِلَّا بَشَرٞ مِّثۡلُكُمۡۖ أَفَتَأۡتُونَ ٱلسِّحۡرَ وَأَنتُمۡ تُبۡصِرُونَ

Transliteration: (Laahiyatan quloobuhum; wa asarrun najwal lazeena zalamoo hal haazaaa illaa basharum mislukum 'afa ta'toonas sihra wa antum tubsiroon)

ترجمہ: کنزالایمان - لَاهِیَةً قُلُوْبُهُمْؕ-وَ اَسَرُّوا النَّجْوَى ﳓ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ﳓ هَلْ هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْۚ-اَفَتَاْتُوْنَ السِّحْرَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ(3) || ان کے دل کھیل میں پڑے ہیں اور ظالموں نے آپس میں خفیہ مَشْوَرَت کی کہ یہ کون ہیں ایک تم ہی جیسے آدمی تو ہیں کیا جادو کے پاس جاتے ہو دیکھ بھال کر۔ ترجمہ: کنزالعرفان ان کے دل کھیل میں پڑے ہوئے ہیں اور ظالموں نے آپس میں خفیہ مشورہ کیا کہ یہ (نبی) تمہارے جیسے ایک آدمی ہی تو ہیں تو کیا تم خود دیکھنے کے باوجود جادو کے پاس جاتے ہو؟ || ان کے دل کھیل میں پڑے ہوئے ہیں اور ظالموں نے آپس میں خفیہ مشورہ کیا کہ یہ (نبی) تمہارے جیسے ایک آدمی ہی تو ہیں تو کیا تم خود دیکھنے کے باوجود جادو کے پاس جاتے ہو؟

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الأنبياء آیت 3 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{لَاهِیَةً قُلُوْبُهُمْ:ان کے دل کھیل میں  پڑے ہوئے ہیں  ۔} دل کھیل میں  پڑے ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ  اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل ہیں  اور بعض مفسرین فرماتے ہیں  کہ جو دل دنیا کے احوال میں  مشغول اور آخرت کے احوال سے غافل ہو وہ کھیل میں  پڑ اہوا ہے۔( خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۳، ۳ / ۲۷۱، روح البیان، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۳، ۵ / ۴۵۲، ملتقطاً)

{ وَ اَسَرُّوا النَّجْوَى ﳓ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا:اور ظالموں  نے آپس میں  خفیہ مشورہ کیا ۔} ارشاد فرمایا کہ کافروں  نے آپس میں  خفیہ مشورہ کیا اور اسے چھپانے میں  بہت مبالغہ کیا مگر  اللہ تعالیٰ نے ان کا راز فاش کر دیا اور بیان فرما دیا کہ وہ رسولِ کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بارے میں  یوں  کہتے ہیں  کہ یہ تمہارے جیسے ایک آدمی ہی تو ہیں ۔( خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۳، ۳ / ۲۷۱) یہ کفر کا ایک اصول تھا کہ جب یہ بات لوگوں  کے ذہن نشین کر دی جائے گی کہ وہ تم جیسے بشر ہیں  تو پھر کوئی ان پر ایمان نہ لائے گا۔ کفار یہ بات کہتے وقت جانتے تھے کہ ان کی بات کسی کے دل میں  جمے گی نہیں  کیونکہ لوگ رات دن معجزات دیکھتے ہیں ، وہ کس طرح باور کر سکیں  گے کہ حضورپُر نور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہماری طرح بشر ہیں  اس لئے انہوں  نے معجزات کو جادو بتا دیا اور کہا کہ کیا تم خود دیکھنے اور جاننے کے باوجود جادو کے پاس جاتے ہو؟

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now