قرآن - 88:19 سورہ الغاشیة ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

19
وَإِلَى ٱلۡجِبَالِ كَيۡفَ نُصِبَتۡ

Transliteration: (Wa ilal jibaali kaifa nusibat )

ترجمہ: کنزالایمان - وَ اِلَى السَّمَآءِ كَیْفَ رُفِعَتْﭨ(18)وَ اِلَى الْجِبَالِ كَیْفَ نُصِبَتْﭨ(19) || اور آسمان کو کیسا اونچا کیا گیا۔ اور پہاڑوں کو کیسے قائم کئے گئے ۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور آسمان کو ، کیسا اونچا کیا گیاہے۔ اور پہاڑوں کو، کیسے قائم کیا گیا ہے ۔ || اور آسمان کو ، کیسا اونچا کیا گیاہے۔ اور پہاڑوں کو، کیسے قائم کیا گیا ہے ۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الغاشیة آیت 19 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ اِلَى السَّمَآءِ: اور آسمان کو۔} یعنی کیا کفارِ مکہ نے آسمان کو اس طور پر نہیں  دیکھا جس کا وہ دن رات مشاہدہ کرتے ہیں  کہ وہ ستونوں  اور کسی سہارے کے بغیر کیسا اونچا کیا گیا ہے ۔( روح البیان، الغاشیۃ، تحت الآیۃ: ۱۸، ۱۰ / ۴۱۷)

{وَ اِلَى الْجِبَالِ كَیْفَ نُصِبَتْ: اور پہاڑوں  کو، کیسے قائم کیا گیا ہے۔} یعنی کیا کافروں  نے ان پہاڑوں  کو نہیں  دیکھا جنہیں زمین میں  نَصب کردیا گیا کہ نہ وہ ہوا سے اڑتے ہیں اور نہ زلزلہ سے گرتے ہیں بلکہ زمین کیلئے سہارا اور اس کیلئے میخوں  کے قائم مقام ہیں ۔نیز انسانوں  کیلئے ہزارہا فوائد پر مشتمل ہیں  چنانچہ ان میں  سے لعل، ہیرے، مَعدنیات، چشمے دریا وغیرہ ہزار ہا قسم کی چیزیں  نکلتی ہیں ۔

روحانی پہاڑ:

            صوفیاء ِکرام فرماتے ہیں  کہ اللّٰہ تعالیٰ کے اولیاء رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ روحانی پہاڑ ہیں  جو کبھی راہِ حق سے نہیں  بھٹکتے، اپنے معتقدین کو قائم رکھتے ہیں ، ایمان و عرفان کے سر چشمے ہیں ، اَسرارِ اِلٰہیہ کے خزانے اِن سے برآمد ہوتے ہیں  جن کا سلسلہ تا قیامت قائم رہے گا۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now