قرآن - 88:21 سورہ الغاشیة ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

21
فَذَكِّرۡ إِنَّمَآ أَنتَ مُذَكِّرٞ

Transliteration: (Fazakkir innama anta Muzakkir)

ترجمہ: کنزالایمان - فَذَكِّرْ۫ؕ-اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُذَكِّرٌﭤ(21) || تو تم نصیحت سناؤ تم تو یہی نصیحت سنانے والے ہو۔ ترجمہ: کنزالعرفان تو تم نصیحت کرو تم تو نصیحت کرنے والے ہی ہو۔ || تو تم نصیحت کرو تم تو نصیحت کرنے والے ہی ہو۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الغاشیة آیت 21 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{فَذَكِّرْ: تو تم نصیحت کرو۔} اللّٰہ تعالیٰ کی قدرت کے عجائبات بیان کرنے کے بعد فرمایا گیا کہ اللّٰہ تعالیٰ کی نعمتوں  اور اس کی قدر ت کے دلائل بیان فرما کر لوگوں  کو سمجھاؤ اور نصیحت کرو۔ اِس آیت میں  اَوّلین خطاب تو سرکارِ دوعالَم صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کو ہے لیکن آپ کے وسیلے سے سب مسلمانوں  کو خطاب ہے کہ جو سمجھانے کی صلاحیت رکھتاہو وہ دوسروں  کو سمجھائے۔

جدید علوم کو حاصل کرنا نفع بخش ہے:

            اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جدید علوم کا حاصل کرنا نہایت نفع بخش ہے کہ مثلاً مذکورہ بالا آیات میں  جو کچھ بیان کیا گیا ہے صرف وہی چار آیتیں  دہرا کر تو نہیں  سمجھایا جائے بلکہ غور وفکر کے بعد جو مَعارِف و اَسرار اور حکمتیں  سمجھ آئیں  گی ان کو بیان کرکے سمجھایا جائے گا اور اِن حکمتوں  کو سمجھنے کا ایک بہت بڑا ذریعہ مذکورہ چیزوں کے متعلقہ جدید علوم ہیں  تو اگر انہیں  سمجھ اور سیکھ لیا جائے تو عام آدمی کی بنسبت زیادہ اچھے طریقے سے قدرتِ الٰہی کا بیان کیا جاسکتا ہے۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now