قرآن - 88:20 سورہ الغاشیة ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

20
وَإِلَى ٱلۡأَرۡضِ كَيۡفَ سُطِحَتۡ

Transliteration: (Wa ilal ardi kaifa sutihat )

ترجمہ: کنزالایمان - وَ اِلَى الْاَرْضِ كَیْفَ سُطِحَتْﭨ(20) || اور زمین کو کیسے بچھائی گئی۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور زمین کو ، کیسے بچھائی گئی ہے۔ || اور زمین کو ، کیسے بچھائی گئی ہے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الغاشیة آیت 20 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ اِلَى الْاَرْضِ كَیْفَ سُطِحَتْ: اور زمین کو، کیسے بچھائی گئی ہے۔} یعنی جس زمین پر کافر چلتے پھرتے ہیں  ،کیا اس کی طرف انہوں  نے یوں  نہیں  دیکھا کہ یہ کیسے پانی پر بچھائی گئی ہے ۔اگر یہ انصاف کی نگاہ سے ان شاہکاروں  کو دیکھتے تو اللّٰہ تعالیٰ کی قدرت کا انکار کرنے کی طرف کوئی راہ نہ پاتے ۔

            یاد رہے کہ اگرزمین کی ساخت اور اس کے فوائد و اَسرارلکھنے بیٹھیں  تو شاید ہزاروں  کتابوں  میں  بھی نہ سماسکیں ۔ اسی ایک زمین کے متعلق جدید علوم کی تعداد بھی سینکڑوں  میں  ہے جیسے علمِ جغرافیہ اور علمِ اَرضیات کی مختلف شاخیں ۔ بظاہر ساری زمین یکساں  ہے مگر اس میں  بے حد تَنَوُّع ہے ۔پاک و ہند کی سرزمین اور طرح کی ہے اور عرب کی سرزمین اور طرح کی ۔ کہیں  سے سونا نکلتا ہے، کہیں  سے تیل اور کہیں  سے دیگر دھاتیں ۔ ایسے ہی انسان بظاہر یکساں  ہیں مگر در حقیقت بہت مختلف ہیں ، کسی دل سے گندگی نکلتی ہے اور کسی سے معرفت ِالٰہی کے چشمے پھوٹتے ہیں ۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now