Transliteration: (Lasta 'alaihim bimusaitir )
{لَسْتَ عَلَیْهِمْ بِمُصَۜیْطِرٍ: تم کچھ ان پر زبردستی کرنے والے نہیں ہو۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ، آپ کی یہ ذمہ داری نہیں کہ آپ انہیں مسلمان کرکے ہی چھوڑیں بلکہ اللّٰہ تعالیٰ کا پیغام احسن طریقے سے پہنچا دینا آپ کا کام ہے ۔ اس کے بعد اگر سارے لو گ کافر رہیں تو آپ کا کچھ نہیں بگڑتاجیسے اگرسورج سے کوئی روشنی نہ لے یا بادل سے فیض نہ لے تو اس سے سورج یا بادل کا نقصان نہیں ہے۔ یا آیت کا یہ مطلب ہے کہ آپ انہیں جَبراً مسلمان نہ کریں بلکہ اسلام کی تعلیمات پہنچا کر قبول کرنے یانہ کرنے کا اختیار ان پر چھوڑ دیں ۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الغاشیة آیت 22 تفسیر