Transliteration: (Qad qaalahal lazeena min qablihim famaaa aghnaa 'anhum maa kaanoo yaksiboon)
{قَدْ قَالَهَا الَّذِیْنَ
مِنْ قَبْلِهِمْ:
ان سے پہلوں نے بھی ایسے ہی بات کہی تھی۔} یعنی کفارِ مکہ سے پہلے جو لوگ گزرے
ہیں انہوں نے بھی یہ بات کہی تھی کہ ’’ یہ نعمت تو
ہمیں ایک علم کی بدولت ملی ہے۔مفسرین فرماتے
ہیں ’’پہلوں سے مراد قارون اور ا س کی قوم ہے۔قارون نے یہ
کہا تھا کہ یہ (خزانہ) تو مجھے ایک علم کی بنا پرملا ہے جو میرے
پاس ہے، اور قارون کی قوم چونکہ اس کی اس بے ہودہ گوئی پر راضی رہی تھی اس لئے
وہ بھی کہنے والوں میں شمار ہوئی۔
بعض
مفسرین فرماتے ہیں ’’ ممکن ہے کہ قارون کے علاوہ سابقہ
امتوں میں سے اور لوگوں نے بھی ایساکہا ہو۔(تفسیر طبری، الزّمر، تحت الآیۃ: ۵۰، ۱۱ / ۱۳، روح البیان، الزّمر، تحت
الآیۃ: ۵۰، ۸ / ۱۲۲، ملتقطاً)
{فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ
مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ: تو ان کی کمائیاں ان کے کچھ کام نہ آئیں ۔} یعنی جو نعمت
انہیں ملی اس نے ان سے سختی اور عذاب دور نہ کیا اور نہ ہی اس نعمت نے
انہیں کوئی فائدہ دیا۔( روح البیان، الزّمر،
تحت الآیۃ: ۵۰، ۸ / ۱۲۲)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الزمر آیت 50 تفسیر