قرآن - 39:52 سورہ الزمر ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

52
أَوَلَمۡ يَعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ يَبۡسُطُ ٱلرِّزۡقَ لِمَن يَشَآءُ وَيَقۡدِرُۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يُؤۡمِنُونَ

ترجمہ: کنزالایمان - اَوَ لَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ(52) || کیا اُنہیں معلوم نہیں کہ اللہ روزی کشادہ کرتا ہے جس کے لیے چاہے اور تنگ فرماتا ہے بیشک اِس میں ضرور نشانیاں ہیں ایمان والوں کے لیے۔ ترجمہ: کنزالعرفان کیا انہیں معلوم نہیں کہ اللہ روزی کشادہ کرتا ہے جس کے لیے چاہتا ہے اور تنگ (بھی) فرماتا ہے۔ بیشک اس میں ایمان والوں کے لیے ضرور نشانیاں ہیں ۔ || کیا انہیں معلوم نہیں کہ اللہ روزی کشادہ کرتا ہے جس کے لیے چاہتا ہے اور تنگ (بھی) فرماتا ہے۔ بیشک اس میں ایمان والوں کے لیے ضرور نشانیاں ہیں ۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الزمر آیت 52 تفسیر


صراط الجنان — Siratul Jinan

{اَوَ لَمْ یَعْلَمُوْا: کیا انہیں  معلوم نہیں ۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، جن لوگوں  کی ہم نے تکلیف دور کر دی اور وہ ہمارا احسان ماننے کی بجائے کہنے لگے کہ یہ نعمتیں  تو ہمیں  ہمارے علم کی بنا پر ملی ہیں ،کیا وہ جانتے نہیں  کہ تکلیف اور راحت،وسعت ،تنگی اور مصیبت اللہ تعالیٰ کے دست ِقدرت میں  ہے اور ا س کے علاوہ اور کوئی یہ قدرت نہیں  رکھتا،کیا وہ جانتے نہیں  کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں  میں  سے جس کے لئے چاہے روزی کشادہ کر دے اور جس کے لئے چاہے تنگ کر دے ۔بے شک یہ بندوں  پر اللہ تعالیٰ کی حجتیں  ہیں  تاکہ وہ ان کے ذریعے عبرت اور نصیحت حاصل کریں  اور بے شک رزق کی وسعت اور تنگی میں  ایمان والوں  کے لیے اس بات پر ضرور دلائل ہیں  کہ رزق وسیع اور تنگ کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے تو جو شخص ان نشانیوں  کو دیکھ لے گا اور دلائل کو سمجھ لے گا تووہ نعمت ملنے کو اپنے علم اور کوشش کی طرف منسوب نہیں  کرے گا بلکہ اسے اللہ تعالیٰ کا ہی فضل و کرم اور ا س کی عطا قرار دے گا۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now