Transliteration: (Fa asaabahum saiyi aatu maa kasaboo; wallazeena zalamoo min haaa'ulaaa'i sa yuseebuhum saiyi aatu maa kasaboo wa maa hum bimu'jizeen)
{فَاَصَابَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا: تو اُن کے کمائے ہوئے اعمال کی برائیاں انہیں پہنچیں ۔} یعنی پہلے لوگوں نے جو برے اعمال کئے تھے،اُن کی سزائیں انہیں پہنچیں اور اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ کے ہم عصر وہ لوگ جو شرک کر کے اپنی جانوں پر ظلم کر رہے ہیں عنقریب پہلوں کی طرح ان پر بھی ان کے کفر اور گناہوں کی سزائیں آپڑیں گی اور وہ اپنے برے اعمال اور اخلاق کی بنا پر اللہ تعالیٰ کو بے بس نہیں کرسکتے۔ کفارِ مکہ کو ان کے اعمال کی سزائیں ملیں ، چنانچہ ان پر قحط کی مصیبت آئی اور وہ سات برس تک قحط کی مصیبت میں مبتلا رکھے گئے اور غزوۂ بدر کے دن ان کے بڑے بڑے سردار قتل کر دئیے گئے۔ (روح البیان، الزّمر، تحت الآیۃ: ۵۱، ۸ / ۱۲۲، ملخصاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الزمر آیت 51 تفسیر